Skip to content
Home » Blog » دماغی لچک ، نیوروپلاسٹیسٹی کی حیرت انگیز کہانی

دماغی لچک ، نیوروپلاسٹیسٹی کی حیرت انگیز کہانی

  • by

دماغی لچک ، نیوروپلاسٹیسٹی کی حیرت انگیز کہانی

شارق علی
ویلیوورسٹی

ایک ریہیبلیٹیشن سینٹر میں مریض اپنے معالج کے ساتھ بار بار ایک گیند کو ہاتھ سے اٹھانے کی کوشش کررہا تھا۔ تھا۔ یہ معمولی سا کام ناممکن لگ رہا تھا۔ اس کا ہاتھ فالج (Stroke) سے متاثر ہوا تھا۔ ڈاکٹروں کا ابتدا میں خیال تھا کہ شاید اس کا ہاتھ دوبارہ کبھی بھی ٹھیک طرح کام نہ کر سکے۔

پھر بھی ری ہیب کا معالج اسے بار بار یہی مشق کرواتا رہا۔

کئی ہفتوں بعد ایک دن اچانک مریض کی انگلیاں ہلنے لگیں۔
کمرے میں موجود سب لوگ حیران رہ گئے۔

یہ دراصل انسانی دماغ کی ایک حیرت انگیز صلاحیت کا مظاہرہ تھا جسے نیوروپلاسٹیسٹی (Neuroplasticity) کہا جاتا ہے۔

ایک زمانے تک سائنس دانوں کا خیال تھا کہ بالغ انسان کا دماغ تقریباً جامد ہوتا ہے۔ بچپن کے بعد اس میں بنیادی تبدیلی ممکن نہیں رہتی۔ اگر دماغ کا کوئی حصہ خراب ہو جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتا ہے۔

مگر بیسویں صدی کے آخری حصے میں نیورو سائنس کی تحقیق نے اس تصور کو بدل دیا۔ سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ دماغ دراصل ایک زندہ اور متحرک نظام ہے۔ جب ہم کوئی نئی چیز سیکھتے ہیں، مشق کرتے ہیں یا کسی مشکل کا سامنا کرتے ہیں تو دماغ کے نیورونز آپس میں نئے رابطے بنانے لگتے ہیں۔

گویا دماغ اپنے اندر نئے راستے اور نئے سرکٹ تشکیل دے سکتا ہے۔

اسی صلاحیت کی وجہ سے فالج کے مریض دوبارہ چلنا سیکھ سکتے ہیں، زخمی دماغ والے افراد اپنی صلاحیتیں واپس حاصل کر سکتے ہیں، اور انسان عمر کے کسی بھی مرحلے پر نئی مہارتیں سیکھ سکتا ہے۔

آج تعلیم، نفسیات اور ریہیبلیٹیشن میڈیسن میں نیوروپلاسٹیسٹی ایک بنیادی تصور بن چکا ہے۔

اس دریافت نے ہمیں یہ سادہ مگر طاقتور سبق دیا ہے کہ انسانی دماغ جامد نہیں بلکہ مسلسل بدلنے والی ایک حیرت انگیز دنیا ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے سیکھنے کا سفر زندگی بھر جاری رہ سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *