Skip to content
Home » Blog » دلکش تضاد — ایڈریاٹک کنارے

دلکش تضاد — ایڈریاٹک کنارے

  • by

دلکش تضاد — ایڈریاٹک کنارے

چھٹی قسط

شارق علی
ویلیوورسٹی


فصیل بند پرانے ڈبروونک شہر کے مرکزی بازار میں ہم نے ڈیڑھ گھنٹے بعد ایک مقررہ مقام پر دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا اور شہر کو اپنی اپنی رفتار سے دریافت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ میں اور مونا ایک ساتھ تھے، جبکہ تینوں بچے الگ الگ سمتوں میں نکل گئے۔

یہ بازار دراصل ایک وسیع ساحلی میدان ہے، جو اس قدیم فصیل بند شہر کی سب سے نچلی سطح پر، سطحِ سمندر سے کچھ ہی بلند واقع ہے۔ میدان کے اطراف پہاڑی ڈھلوانوں کو تراش کر مقامی پتھروں سے بنی سیڑھیاں اوپر کی بلندیوں تک جاتی ہیں۔ یہ پورا دفاعی ڈھانچہ شہر کی قدیم تجارتی خوشحالی کا عکاس ہے۔ چونکہ ڈبروونک ایک تاجر شہر رہا ہے، اس لیے حملہ آوروں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہا، اور انہی خدشات نے
اس مضبوط فصیل اور حفاظتی نظام کو جنم دیا۔

اسی مرکزی میدان میں دو تین چرچ بھی واقع ہیں، جنہیں اب میوزیم اور آرٹ گیلریوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کا بڑا حصہ آرٹ گیلری کے طور پر استعمال ہوتا ہے؛ دیواروں پر آویزاں تصویریں تاریخ اور مذہبی کہانیوں کو بیان کرتی ہیں، جبکہ درمیان میں عبادت کے لیے مخصوص جگہ بھی موجود ہے۔ مونا ان تصویروں میں دل چسپی لیتی رہیں، جبکہ میں کچھ دیر عبادت گاہ کی بینچوں پر پرسکون بیٹھا رہا۔
مرکزی میدان، جو کسی مصروف بازار کا منظر پیش کر رہا تھا، اس کے ایک گوشے میں ایک بڑے آہنی دروازے کے سامنے ڈھلوانی راستہ بنا ہوا ہے۔ غالباً یہی وہ مقام تھا جہاں سے کشتیاں سمندر میں اتاری یا واپس کھینچی جاتی ہوں گی۔ اگرچہ دروازہ بند ہونے کے باعث باہر کا منظر دکھائی نہیں دیتا تھا، مگر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دروازہ براہِ راست ساحلِ سمندر سے جڑا ہوا ہے۔
ڈبروونک اور مجموعی طور پر جدید کرویشیا کا معاشرہ ایک دلکش تضاد کا حامل ہے۔ یہاں کے لوگ بیک وقت جدید بھی ہیں اور روایت سے مضبوطی سے جڑے ہوئے بھی۔ دن کے اوقات میں وہ اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور الیکٹرک اسکوٹر کے ساتھ مصروف نظر آتے ہیں، مگر شام ڈھلے یہی لوگ سمندر کے کنارے یا پرانے شہر کی گلیوں میں آہستہ آہستہ ٹہلتے ہوئے زندگی کو گویا “سلو موشن” میں جیتے دکھائی دیتے ہیں۔
کروشیا میں کیفے کلچر محض کافی پینے تک محدود نہیں بلکہ ایک سماجی روایت ہے؛ لوگ گھنٹوں ایک ہی کپ کافی کے ساتھ گفتگو کرتے رہتے ہیں، جیسے وقت کو شکست دے دی ہو۔ اگرچہ نوجوان نسل عالمی فیشن، موسیقی اور ڈیجیٹل دنیا سے پوری طرح جڑی ہوئی ہے، مگر اپنی زبان، لوک موسیقی، روایتی کھانوں اور قومی دنوں پر فخر ان کی شخصیت کا لازمی حصہ ہے۔ ڈبروونک جیسے شہروں میں، سیاحوں کے ہجوم کے باوجود، مقامی لوگ اپنے روزمرہ معمولات ترک نہیں کرتے—صبح سبزی منڈی، دوپہر کو مختصر کام، اور شام کو خاندان یا دوستوں کے ساتھ ملاقات۔ یوں یہ شہر محض ایک سیاحتی نمائش نہیں بلکہ ایک زندہ، سانس لیتا ہوا معاشرہ محسوس ہوتا ہے۔
میدان کے مرکز اور اس کے دونوں جانب بازار اور دکانیں پوری رونق کے ساتھ آباد تھیں، جو اس شہر کے تجارتی اور سماجی تسلسل کی گواہی دے رہی تھیں۔
قدیم شہر، میوزیمز اور بندرگاہی مناظر دیکھنے کے بعد، مقررہ وقت پر ہم دوبارہ طے شدہ مقام پر جمع ہوئے اور پھر ایک ساتھ لنچ کے لیے روانہ ہو گئے۔ بچوں نے ٹرپ ایڈوائزر کی تحقیق کی بنیاد پر ایک ایسی سینڈوچ شاپ دریافت کی تھی جو اس علاقے میں سب سے زیادہ مقبول سمجھی جاتی ہے۔ ڈھونڈتے ڈھانڈتے جب وہاں پہنچے تو واقعی خریداروں کی ایک لمبی قطار نظر آئی۔
بچوں کو قطار میں کھڑا کر کے میں اور مونا قریب ہی واقع ایک ویونگ گیلری میں چلے گئے، جہاں ایک جانب سمندر اور دوسری جانب شہر کا چکر لگاتی ہوئی رنگین بسیں دکھائی دیتی تھیں۔ ہم گیلری کی ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔
کچھ دیر بعد بچوں نے اپنے اپنے آرڈر دے دیے—میرے لیے ٹونا سینڈوچ اور مونا کے لیے ویجیٹیبل سینڈوچ۔ جب سب سینڈوچ لے کر واپس آئے تو ہم نے طے کیا کہ قیام گاہ کی طرف قدرے جلدی لوٹ جائیں۔ لنچ وہیں کریں، تھوڑا آرام کریں، شام کی ہلکی سی سیر اپنے قریبی علاقے میں کریں اور رات کو جلدی سو جائیں، کیونکہ اگلے دن ہمیں قریبی ملک بوسنیا کے شہر موسٹار جانا تھا۔
اسی ارادے کے تحت اس دن ہم نے نسبتاً جلدی اپنی قیام گاہ کا رخ کیا۔ ایک نئے سفر سے پہلے تھوڑا سا آرام ضروری تھا۔
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *