جون بائز اور باب ڈلن: ادھوری محبت، مکمل مزاحمت
شارق علی
ویلیوورسٹی
انیس سو ساٹھ کی دہائی کا امریکہ خوابوں اور احتجاج کی سرزمین تھا۔ نسلی برابری کے مارچ، ویت نام جنگ کے خلاف صدائیں، اور نوجوانوں کے مزاحمتی ہجوم۔ ہر طرف سوال ہی سوال تھے۔
انہی سوالوں کے بیچ دو آوازیں ابھریں: باب ڈلن اور جون بائز۔ یہ صرف گلوکار نہ تھے؛ یہ اپنے عہد کے ضمیر کی بازگشت تھے۔
جون بائز پہلے ہی انسانی حقوق کی تحریک کی مضبوط آواز بن چکی تھیں۔ جب انہوں نے ایک کم عمر شاعر، باب ڈلن، کو سنا تو اس کے لفظوں میں بغاوت اور سچ کی چنگاری پہچان لی۔
انہوں نے اسے اپنے اسٹیج پر جگہ دی، اور یوں ایک فنکارانہ رفاقت نے جنم لیا جو آہستہ آہستہ ایک خاموش رومان میں ڈھل گئی۔
ڈلن کے الفاظ صرف نغمے نہ تھے، وہ سوال تھے:
“How many roads must a man walk down
Before you call him a man?”
(“کتنی راہیں طے کرے انسان، تب جا کر وہ انسان کہلائے؟”)
اور پھر وہ صدا جو پوری نسل کی آواز بن گئی:
“The answer, my friend, is blowin’ in the wind.”
(“اے دوست، جواب ہوا میں معلق ہے۔”)
جون بائز کی صاف اور شفاف آواز میں یہ اشعار احتجاج بھی بن جاتے اور امید بھی۔ 1963 کے نیوپورٹ فوک فیسٹیول میں جب دونوں ایک ساتھ اسٹیج پر کھڑے ہوئے تو یوں لگا جیسے موسیقی اور محبت ایک ہی سانس میں بول رہی ہوں۔
وقت کے ساتھ راستے جدا ہوئے۔ ڈلن نے الیکٹرک موسیقی کی طرف قدم بڑھایا، روایت توڑی، تنقید سہی۔ جون بائز انسانی حقوق کی جدوجہد میں جمی رہیں۔ مگر ان کی علیحدگی بھی ایک مکمل کہانی تھی۔ احترام کے ساتھ، وقار کے ساتھ۔
آج جب ان کے گیت سنائی دیتے ہیں تو صرف دھن نہیں بجتی؛ ایک ادھوری محبت، ایک مشترکہ خواب، اور ایک پورے عہد کی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی دو آوازیں مل کر تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں، اور محبت—چاہے مختصر ہو، اپنے پیچھے ایک طویل بازگشت چھوڑ جاتی ہے۔
