جنگ، نفرت اور اخلاقی ذمہ داری
شارق علی
ویلیو ورسٹی
جنگیں اکثر ریاستوں کے درمیان ہوتی ہیں، عوام کے درمیان نہیں۔ فیصلے طاقت کے ایوانوں میں ہوتے ہیں، مگر اثرات عام لوگوں کی زندگیوں پر پڑتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ریاستی کشمکش کو انسانی تعلقات پر مسلط نہ ہونے دیں۔
خاص طور پر ایسے وقت میں جب فضا پہلے ہی کشیدہ ہو، ہمیں اپنے رویّوں کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ جنگ کسی قوم سے نفرت کے اظہار کا بہانہ نہیں بننی چاہیے۔ اگر ہم پڑوسی ملک کے میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویّے پر تنقید کرتے ہیں تو ہمیں خود بھی اسی سطح پر نہیں اترنا چاہیے۔ اخلاقی برتری صرف نعروں سے نہیں، رویّے سے ثابت ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بنائی گئی بعض وڈیوز یا طنزیہ مواد وقتی جذبات کو تو تسکین دے سکتے ہیں، مگر وہ معاشرے کی تہذیبی سطح کو نیچے لے جاتے ہیں۔ خاص طور پر جب نشانہ عام محنت کش بن جائیں۔ تندور لگانے والے، نان بنانے والے، ریڑھی چلانے والے۔ تو یہ محض بدذوقی نہیں بلکہ ناانصافی ہے۔ ان لوگوں کا دہشت گردی، جنگ یا ریاستی پالیسیوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ صرف اپنے بچوں کے لیے رزق کمانے نکلتے ہیں۔
چاہے وہ افغان ہوں، پاکستانی ہوں یا کسی اور قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔ محنت کرنے والا انسان قابلِ احترام ہے۔ ہماری روایت بھی یہی کہتی ہے کہ محنت کر کے روزی کمانے والا معزز ہے۔ اسے نفرت کا ہدف بنانا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ انسانی طور پر۔
جنگوں کے شور میں اگر کچھ بچانا ہے تو وہ ہماری انسانیت ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ مظلوم کون ہے، محنت کش کون ہے، اور انصاف کا تقاضا کیا ہے۔ نفرت آسان ہے، مگر کردار مشکل۔ اور قومیں اپنے کردار سے پہچانی جاتی ہیں۔
