Skip to content
Home » Blog » “بے اختیار کی طاقت”

“بے اختیار کی طاقت”

  • by

“بے اختیار کی طاقت”

شارق علی
ویلیوورسٹی

واکلاو ہیول Václav Havel بیسویں صدی کے اُن نادر دانش وروں میں سے تھے جو قلم، ضمیر اور سیاست، تینوں میدانوں میں آزمائے گئے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈرامہ نگار اور مضمون نویس تھے، مگر تاریخ نے انہیں صرف ادیب نہیں رہنے دیا۔ کمیونسٹ جبر کے طویل سائے میں انہوں نے وہ بات کہی جو کہنا ممنوع تھی، اور بعد ازاں وہی شخص اپنے ملک کا صدر بھی بنا۔ یہی تضاد ان کی فکر کی سچائی کا ثبوت ہے۔

ہیول کا مشہور مضمون “بےاختیار لوگوں کی طاقت” 1978 میں اس وقت لکھا گیا جب مشرقی یورپ میں کمیونسٹ نظام ظاہری استحکام کے باوجود اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ریاست طاقت کے ساتھ نہیں، رسمی اطاعت کے ذریعے چل رہی تھی. نعرے، پوسٹر، بیانات، اور خاموش رضامندی۔ لوگ سچ پر یقین کیے بغیر بھی اس کی نقل کرتے تھے، صرف اس لیے کہ “نظام کے ساتھ چلنا” محفوظ تھا۔

اسی پس منظر میں ہیول ایک سادہ مگر گہری مثال دیتا ہے: ایک سبزی فروش اپنی دکان کے باہر پوسٹر لگاتا ہے۔ “دنیا بھر کے مزدورو، متحد ہو جاؤ!” وہ اس نعرے پر ایمان نہیں رکھتا، مگر لگاتا ضرور ہے۔ یہ پوسٹر عقیدہ نہیں، اطاعت کا سرٹیفیکیٹ ہے۔

ہیول کے مطابق یہی چھوٹے چھوٹے جھوٹ مل کر بڑے جابرانہ نظام کو زندہ رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ “سچ میں جینے” کا تصور پیش کرتا ہے۔ یعنی جھوٹ کی اس روزمرہ رسم سے انکار۔

آج کی عالمی صورتِ حال میں یہ مضمون غیر معمولی طور پر متعلق ہو چکا ہے۔ “رول بیسڈ ورلڈ آرڈر”، “یونیورسل لا”، اور “تمام ممالک کی برابری” جیسے تصورات زبان پر تو موجود ہیں، مگر عمل میں طاقت کے توازن کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ ایک سپر پاور دوسری کے مقابلے میں اخلاقی برتری کے دعوے میں ناکام ہو رہی ہے، اور اصول مفاد کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے وقت میں ہیول یاد دلاتا ہے کہ اصل تبدیلی اوپر سے نہیں آتی. وہ تب آتی ہے جب عام لوگ دوہرے معیار کے جھوٹ کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہی بےاختیار کی اصل طاقت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *