بوسنیا کا نیوم، ایڈریاٹک کنارے
ساتویں قسط
شارق علی
ویلیوورسٹی
دن کا آغاز خاصا جلدی ہوا۔ آج ہمیں بوسنیا و ہرزیگووینا کے شہر موستار جانا تھا۔ وہ شہر جس کا نام سنتے ہی دریا، اس پر قائم قدیم پل، اور صدیوں پر محیط کہانیاں ایک ساتھ ذہن میں ابھر آتی ہیں۔
سات بجنے میں دس منٹ باقی تھے جب ہم اپنی بی این بی سے نکل کر مرکزی پوسٹ آفس کے سامنے واقع کوچ اسٹیشن پہنچے۔ یہ ہمارا طے شدہ پک اَپ پوائنٹ تھا، جو رہائش گاہ سے محض پانچ سات منٹ کی ہلکی سی پہاڑی اترائی پر واقع تھا۔ وہاں چند اور سیاح پہلے ہی کوچ کے منتظر کھڑے تھے۔
صبح کی خنکی فضا میں رچی ہوئی تھی، اور شہر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔
ٹھیک سات بجے سیاہ رنگ کی ایک شاندار، لگژری کوچ ہمارے سامنے آ کر رُکی۔ اس کے ساتھ ایک تجربہ کار کوچ ڈرائیور اور ایک خاتون گائیڈ تھیں۔ ان کا یوگوسلاوی نام خاصا مشکل تھا، اس لیے سب انہیں ان کے نام کے آسان حصے، سانڈرا، سے پکارنے لگے۔
ڈرائیور نہایت پُرسکون اور اعتماد سے بھرپور شخصیت کا حامل تھا، جبکہ کوچ بالکل نئی اور ہر سہولت سے آراستہ تھی: اندر کافی اور اسنیکس کی وینڈنگ مشین، واش روم، آرام دہ نشستیں، اور ہر مسافر کے لیے ذاتی انٹرٹینمنٹ اسکرین موجود تھی۔
گائیڈ نے ہم سب کے پاسپورٹ جمع کیے، اور پھر کوچ ڈبروونک کے مختلف شاندار ہوٹلوں سے گزرتی ہوئی دیگر مسافروں کو بھی اس گروپ میں شامل کرتی چلی گئی۔ کچھ ہی دیر بعد ہم ایڈریاٹک سمندر کے کنارے کنارے چلتی کوسٹل ہائی وے پر رواں دواں تھے۔
کوچ میں کل اڑتالیس مسافر اور عملے کے دو افراد تھے۔ یوں پچاس نفوس پر مشتمل یہ قافلہ کچھ ہی دیر میں کرویشیا اور بوسنیا کی سرحدی چوکی پر جا پہنچا۔
کوچ ایک مقررہ مقام پر رُکی، اور ہمیں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے رہنے کی ہدایت کی گئی۔ گائیڈ اور ڈرائیور ہمارے پاسپورٹ لے کر قریبی امیگریشن آفس کے وسیع ہال میں داخل ہو گئے۔ تقریباً بیس پچیس منٹ تک ہم مسافر آپس میں گپ شپ کرتے رہے۔ کوئی ویڈیوز دیکھنے لگا، کوئی خاموشی سے باہر کے مناظر میں کھو گیا۔
کچھ دیر بعد گائیڈ اور ڈرائیور واپس آئے اور اطلاع دی کہ امیگریشن کا عمل بخوبی مکمل ہو چکا ہے۔ پاسپورٹوں پر مہر لگ چکی تھی، ویزے چیک ہو گئے تھے، اور ہمیں کوچ سے اترنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔
نہ کوئی سوال جواب،
نہ لمبی قطار،
اور نہ کسی افسر سے براہِ راست سامنا۔
یوں ہم خاموشی سے بوسنیا و ہرزیگووینا میں داخل ہو گئے
یہ پورا خطہ کبھی یوگوسلاویہ کہلاتا تھا—دوسری جنگِ عظیم کے بعد مختلف جنوبی سلاوی قوموں پر مشتمل ایک وفاقی ریاست۔ وقت کے ساتھ قومیتی اختلافات، سیاسی کشیدگی اور معاشی مسائل نے اس اتحاد کو کمزور کر دیا۔ بالآخر 1990 کی دہائی میں یوگوسلاویہ ٹوٹ گیا، اور کرویشیا، بوسنیا ہرزیگووینا سمیت کئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں۔ آج یہ سرحدیں ہمیں معمول کی بات لگتی ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک پیچیدہ، دردناک اور خونی تاریخ پوشیدہ ہے۔
سرحد پار کرتے ہی منظر میں کوئی ڈرامائی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔
وہی سڑک، وہی پہاڑ، وہی فضا اور وہی سمندر۔
سب کچھ مانوس تھا، مگر تاریخ اور جغرافیے کے اعتبار سے ہم ایک مختلف ملک اور مختلف پس منظر میں داخل ہو چکے تھے۔
تقریباً بیس پچیس کلومیٹر کے سفر کے بعد ہماری کوچ ایک ساحلی شہر میں داخل ہوئی۔ اس کا نام تھا نیوم۔
نیوم بوسنیا ہرزیگووینا کا وہ واحد دروازہ ہے جو ایڈریاٹک سمندر کی طرف کھلتا ہے۔ یہاں ہماری کوچ نے ناشتے کے وقفے کے لیے قیام کیا اور سمندر کے کنارے، قدرے بلندی پر واقع ایک خوبصورت ریستوران کے سامنے جا کر پارک ہو گئی۔
سیاح مختلف میزوں پر بیٹھ گئے اور اپنے اپنے ناشتے کا آرڈر دینے لگے۔
ناشتے کے انتظار کی خاموشی نے نیوم کی تاریخ کی یاد دلا دی۔
ایڈریاٹک کے کنارے بسنے والا یہ بظاہر چھوٹا سا، پرسکون شہر اپنی تہوں میں طاقت، سیاست اور بقا کی ایک گہری کہانی سموئے ہوئے ہے۔ یہ بوسنیا و ہرزیگووینا کا واحد ساحلی شہر ہے، اور یہی حقیقت اسے جغرافیائی اور تاریخی طور پر غیر معمولی بناتی ہے۔
سترھویں صدی میں، جب عثمانی سلطنت بلقان میں اپنی طاقت بڑھا رہی تھی، اس زمانے میں ڈبروونک، جو اُس دور میں ریپبلک آف راگوسا کہلاتا تھا۔ ایک خوشحال مگر عسکری لحاظ سے کمزور تجارتی ریاست تھی۔ سمندری تجارت اس کی معیشت کی بنیاد تھی، اور سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ کسی بڑے حملے سے محفوظ رہا جائے۔
اسی اندیشے اور غیر معمولی سیاسی بصیرت کے تحت راگوسا نے ایک انوکھا سفارتی فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے شمال اور جنوب کے درمیان واقع یہ باریک سا ساحلی علاقہ عثمانیوں کے حوالے کر دیا، تاکہ عثمانی سلطنت کو سمندر تک رسائی ملے، اور بدلے میں ڈبروونک ایک محفوظ بفر زون کے ذریعے حملے سے بچا رہے۔
یہی فیصلہ آج کے نقشے میں بوسنیا کو سمندر سے جوڑتا ہے، اور کرویشیا کو زمینی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
نیوم محض ایک شہر نہیں، بلکہ سفارت کاری کی ایک زندہ مثال ہے۔
جہاں تلوار کے بجائے نقشے کی لکیروں سے جنگ جیتی گئی۔
آج نیوم ایک سادہ، نسبتاً کم رش والا ساحلی شہر ہے۔ یہاں وہ ہنگامہ نہیں جو ڈبروونک یا اسپلٹ میں دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی خاموش فضا میں تاریخ کی سرگوشیاں صاف سنائی دیتی ہیں۔
ناشتہ مکمل ہوا۔ کوچ دوبارہ روانگی کے لیے تیار تھی۔
اب ہمارا رخ اندرونِ بوسنیا کی طرف تھا۔ پہاڑوں، درّوں اور کہانیوں کے بیچ چھپا ہوا ایک ایسا شہر، جہاں ایک پل نے صرف دریا کے دو کناروں کو نہیں، بلکہ تاریخ، ثقافت اور انسانوں کے دلوں کو جوڑ رکھا ہے۔
موستار ہمارا انتظار کر رہا تھا…۔ جاری ہے
