بامیان کی وادی، تہذیبوں کا سنگم
شارق علی
ویلیوورسٹی
افغانستان کے وسط میں، ہندوکش کے پہاڑوں کے درمیان واقع بامیان محض ایک وادی نہیں بلکہ تہذیبی مکالمے کی ایک زندہ علامت رہا ہے۔ صدیوں پہلے یہی وہ مقام تھا جہاں سے شاہراہِ ریشم کے قافلے گزرتے تھے۔ اس وادی میں مختلف زبانیں بولی جاتیں اور مذاہب و ثقافتیں ایک دوسرے کے قریب آتیں۔ بدھ مت کے عروج کے زمانے میں بامیان ایک اہم مذہبی اور ثقافتی مرکز بن چکا تھا۔ یہاں چٹانوں کو تراش کر خانقاہیں، عبادت گاہیں اور درجنوں رہائشی غار بنائے گئے۔
اس وادی کی سب سے نمایاں پہچان دو عظیم الشان بدھا کے مجسمے تھے، جن میں ایک تقریباً 55 میٹر اور دوسرا 38 میٹر بلند تھا۔ یہ مجسمے محض پتھر کی مورتیاں نہیں تھے بلکہ اُس تہذیب کی علامت تھے جو حسن، عبادت اور فن کو انسانی تجربے کا ایک ہی دھارا سمجھتی تھی۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ مجسمے صدیوں تک جنگوں، حکومتوں کی تبدیلی اور قدرتی اثرات کے باوجود قائم رہے۔ ان کی حیثیت بامیان کے داستان گو پتھروں کی تھی، جیسے وہ خود اپنی تاریخ بیان کر رہے ہوں۔
مگر 2001 میں یہ داستان گو آواز خاموش کر دی گئی، جب طالبان نے ان مجسموں کو بارود سے اڑا دیا۔ یہ عمل محض دو آثارِ قدیمہ کے نمونوں کی تباہی نہیں تھا بلکہ انسانی یادداشت اور تہذیبی تسلسل پر ایک بے رحم اور قابلِ نفرت حملہ تھا۔ بعد ازاں یونیسکو نے بامیان کو World Heritage in Danger کی فہرست میں شامل کر لیا۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ بامیان کے غاروں میں موجود بعض دیواری تصویروں میں تیل پر مبنی رنگوں کے آثار ملے، جو فنِ مصوری کی تاریخ میں ایک غیر معمولی انکشاف ہے۔ آج بامیان ایک سوال بن کر انسانی تہذیب کے سامنے کھڑا ہے: کیا ان مجسموں کو دوبارہ بنایا جائے، یا ان خالی طاقوں کو ایک خاموش گواہی کے طور پر یونہی کھڑا رہنے دیا جائے؟
بامیان ہم سے یہ کہتا ہے کہ تہذیبیں صرف جنگ سے نہیں بلکہ تعصب اور عدم برداشت سے بھی ختم ہوتی ہیں، اور یہ بھی کہ ثقافتی ورثے کی حفاظت دراصل انسانی شعور اور مستقبل کی حفاظت ہے۔
