ایک پادری جس نے کائنات پھیلتی دیکھی
جارجز لومیتر اور بگ بینگ کی کہانی
شارق علی
ویلیوورسٹی
تاریخ میں ایک ایسا شخص جو چرچ میں عبادت بھی کراتا ہے اور رات کو آسمان کی وسعتوں پر ریاضی کے سوال بھی حل کرتا ہے۔ وہ پادری بھی ہے اور سائنس دان بھی۔ اس کا نام تھا جارجز لومیتر۔
1927 میں، جب دنیا کے اکثر سائنس دان کائنات کو ساکن سمجھتے تھے، لومیتر نے ایک جرات مندانہ خیال پیش کیا۔
کائنات ساکن نہیں، بلکہ پھیل رہی ہے۔
انہوں نے ریاضیاتی حساب سے دکھایا کہ دور کی کہکشائیں ہم سے دور جا رہی ہیں۔ بعد میں یہی تعلق “ہبل لا” کے نام سے مشہور ہوا، مگر برسوں بعد تسلیم کیا گیا کہ اس کی بنیاد لومیتر پہلے رکھ چکے تھے۔ آج اسے “ہبل لومیتر لا” کہا جاتا ہے۔
1931 میں انہوں نے ایک اور حیران کن تصور پیش کیا۔ ان کے مطابق کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں تھی، بلکہ ایک نہایت گھنی اور مرتکز حالت سے شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے اسے “ابتدائی ایٹم” (Primeval Atom) کہا۔ یہی تصور آگے چل کر “بگ بینگ تھیوری” کہلایا. حالانکہ “بگ بینگ” کا لفظ کسی اور نے طنزیہ انداز میں استعمال کیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لومیتر نے کبھی اپنی تھیوری کو مذہبی دلیل بنانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ واضح کہتے تھے کہ سائنس کا میدان الگ ہے اور عقیدے کا الگ۔ سائنسی ماڈل کو خدا کا براہِ راست ثبوت قرار دینا درست نہیں۔ یہ فکری دیانت ان کے کردار کا خوبصورت پہلو ہے۔
آج، ایک صدی بعد بھی، کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار پر سوال باقی ہیں۔ “ہبل ٹینشن” جیسے مسائل ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
ایک پادری نے کائنات کی ابتدا پر سوال اٹھایا تھا۔
اور انسان آج بھی اسی سوال کے گرد گردش کر رہا
