Skip to content
Home » Blog » اسپینڈوس تھیٹر، وقت کے سینے میں محفوظ معجزہ

اسپینڈوس تھیٹر، وقت کے سینے میں محفوظ معجزہ

  • by

اسپینڈوس تھیٹر، وقت کے سینے میں محفوظ معجزہ

شارق علی
ویلیوورسٹی

ذرا تصور کیجیے…
دو ہزار سال پہلے کی ایک شام، سورج ڈھل رہا ہے، ہزاروں لوگ پتھریلی نشستوں پر بیٹھے ہیں، اور اسٹیج پر اداکار بغیر کسی مائیک کے مکالمے بول رہا ہے مگر اس کی آواز آخری قطار تک صاف سنائی دے رہی ہے۔

یہ داستان گوی نہیں، اسپینڈوس تھیٹر کی حقیقت ہے۔

اسپینڈوس تھیٹر سن 155 عیسوی میں تعمیر ہوا۔ یہ قدیم گریکو رومن شہر اسپینڈوس کا حصہ تھا، جو آج کے ترکی کے صوبہ انطالیہ میں واقع ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تھیٹر آج بھی دنیا کے سب سے بہترین حالت میں محفوظ قدیم تھیٹروں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ شاندار عمارت رومی شہنشاہ مارکس اوریلیئس کے دور میں تعمیر کی گئی، اور اس کا معمار زینون تھا جو خود اسپینڈوس کا رہنے والا ایک یونانی نژاد ماہرِ تعمیرات تھا۔ اس منصوبے کی مالی معاونت شہر کے دو دولت مند بھائیوں نے کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قدیم زمانے سے فن اور ثقافت کو کس قدر اہمیت حاصل ہے۔

معماری کے اعتبار سے اسپینڈوس تھیٹر ایک نادر مثال ہے۔
اس کا قطر تقریباً 96 میٹر ہے، اور یہ بیک وقت سات سے آٹھ ہزار تماشائیوں کو اپنے اندر سمو سکتا تھا۔ یہ تھیٹر جزوی طور پر پہاڑی ڈھلان میں اور جزوی طور پر بلند پتھریلی محرابوں پر تعمیر کیا گیا یوں یونانی اور رومی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج سامنے آتا ہے۔
اس تھیٹر کی سب سے مشہور خصوصیت اس کی غیر معمولی صوتیات (Acoustics) ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسٹیج پر کھڑا شخص اگر آہستہ آواز میں بھی بات کرے تو وہ آواز آخری نشست تک واضح طور پر پہنچ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ماہرینِ تعمیرات اور صوتیات اس تھیٹر کو ایک انجینئرنگ معجزہ مانتے ہیں۔ اس زمانے میں دھوپ سے بچاؤ کے لیے ایک بڑا کپڑے کا سائبان (Velarium) بھی استعمال کیا جاتا تھا، جس کے نشانات آج بھی نظر آتے ہیں۔
اسپینڈوس تھیٹر کی بقا کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے مختلف ادوار میں مسلسل استعمال کیا جاتا رہا۔ تیرہویں صدی میں سلجوقی دور کے حکمرانوں نے اسے مرمت کیا اور کچھ عرصے کے لیے اسٹیج کی عمارت کو محل کے طور پر بھی استعمال کیا۔ یوں یہ عمارت مکمل طور پر ویران ہونے سے بچ گئی۔
آج بھی اسپینڈوس تھیٹر خاموش کھنڈر نہیں۔
ہر سال یہاں Aspendos International Opera and Ballet Festival منعقد ہوتا ہے، جہاں جدید فنکار اسی قدیم اسٹیج پر پرفارم کرتے ہیں اور یوں ماضی اور حال ایک ہی لمحے میں سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔

اس تھیٹر سے جڑی ایک خوبصورت روایت بھی مشہور ہے

کہا جاتا ہے کہ شہر کے حکمران نے اعلان کیا تھا کہ جو معمار شہر کی سب سے شاندار عمارت بنائے گا، وہ اس کی بیٹی سے شادی کرے گا۔ جب حکمران نے تھیٹر کی آخری قطار میں کھڑے ہو کر اسٹیج سے ایک سرگوشی سنی تو وہ زینون کی مہارت پر حیران رہ گیا اور فیصلہ اسی لمحے ہو گیا۔

اسپینڈوس تھیٹر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ
عظیم تہذیبیں صرف طاقت سے نہیں، علم، فن، اور انسان کی تخلیقی ذہانت سے پہچانی جاتی ہیں۔
دو ہزار سال بعد بھی اگر ایک خاموش عمارت ہمیں بولنا سکھا رہی ہے، تو یہ یقیناً تاریخ کا زندہ معجزہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *