Skip to content
Home » Blog » گرین لینڈ اور طاقت کا استعمال

گرین لینڈ اور طاقت کا استعمال

گرین لینڈ اور طاقت کا استعمال

شارق علی
ویلیو ورسٹی

ناشتے کی میز پر گفتگو کا رخ اچانک میرے بیٹے کے یونیورسٹی پروجیکٹ کی طرف مڑ گیا۔ وہ یونیورسٹی آف سرے سے انجینئرنگ میں ماسٹرز کرنے کے بعد کئی برسوں سے پیشہ ورانہ زندگی گزار رہا ہے۔

میں اور مونا متوجہ ہو گئے۔ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے، کھڑکی سے آتی روشنی میں دمکتی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے ماضی کی ایک یاد تازہ کی۔
اس کے ماسٹرز کے فائنل ایئر پروجیکٹ کا موضوع اپنی ٹیم کے ساتھ گرین لینڈ میں رہنے والے مقامی لوگوں، یعنی انیوئٹس، کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی فراہمی کو ممکن بنانا تھا۔

گرین لینڈ دنیا کے مشکل ترین جغرافیوں میں سے ایک خطہ ہے۔ شدید سردی، ہر سمت پھیلی برف، اور تقریباً بیس لاکھ مربع میل پر محیط یہ علاقہ محض ساٹھ ہزار کے قریب آبادی رکھتا ہے۔
یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، مگر اس کا تقریباً اسی فیصد حصہ مستقل برف کی ایک ضخیم چادر، آئس شیٹ، سے ڈھکا ہوا ہے۔ اگر یہ برف کبھی مکمل طور پر پگھل جائے تو عالمی سمندری سطح کئی میٹر بلند ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج گرین لینڈ موسمیاتی تبدیلی کے عالمی مباحث میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

یہاں کے زیادہ تر گاؤں ساحلی علاقوں میں آباد ہیں، کیونکہ اندرونی خطہ انسانی رہائش کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ گرمیوں میں کئی ہفتوں تک سورج غروب نہیں ہوتا، جبکہ سردیوں میں دن صرف چند گھنٹوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ دن اور رات کا یہی غیر معمولی چکر انجینئرنگ کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور ایک اہم موقع بھی۔
اس تعلیمی پروجیکٹ کا مقصد محض کاغذی ماڈل تیار کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک حقیقی انسانی مسئلے کا حل تلاش کرنا تھا:

ایسے دور دراز علاقوں میں توانائی کیسے پیدا کی جائے جہاں نہ بڑی صنعت موجود ہو اور نہ ہی بھاری سرمایہ کاری ممکن ہو۔
ٹیم نے تیز آرکٹک ہواؤں سے بجلی پیدا کرنے، محدود مگر مسلسل دستیاب سورج کی روشنی، اور کم لاگت ہائبرڈ نظاموں پر کام کیا. ایسے نظام جو مقامی لوگوں کے لیے قابلِ اعتماد ہوں اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ بھی۔
انیوئٹس کی زندگی شکار، ماہی گیری اور محدود وسائل میں بقا کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہ طرزِ زندگی ہمیں سکھاتا ہے کہ ترقی فطرت سے ٹکرانے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ چلنے کا ہنر ہے۔

اس پوری گفتگو نے مجھے یہ احساس دلایا کہ جدید تعلیم، خاص طور پر انجینئرنگ، طلبہ کو یہ سکھاتی ہے کہ پوری دنیا ایک اکائی ہے اور انسانیت کے مسائل مشترک ہیں۔ جب کلاس روم سے نکل کر گرین لینڈ جیسے خطوں کو ذہن میں رکھ کر منصوبے تیار کیے جائیں، تو تعلیم محض کتابی علم نہیں رہتی بلکہ ایک اجتماعی انسانی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *