Skip to content
Home » Blog » پوسٹ ٹرتھ، ڈیجیٹل ذہن اور نیا کنٹرول

پوسٹ ٹرتھ، ڈیجیٹل ذہن اور نیا کنٹرول

پوسٹ ٹرتھ، ڈیجیٹل ذہن اور نیا کنٹرول

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سچ اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس تک پہنچنے کا راستہ دھندلا ہو گیا ہے۔ آج رائے سازی میں ثبوت اور تحقیق سے زیادہ جذبات، خوف اور غصہ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی کیفیت کو Post-truth کہا جاتا ہے، یعنی وہ فضا جہاں “سچ کیا ہے” سے زیادہ اہم یہ ہو جاتا ہے کہ “ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں”۔
ڈیجیٹل دنیا نے اس رجحان کو مزید تیز رفتار بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا ہمیں وہی دکھاتا ہے جو ہمیں اچھا لگتا ہے، جو ہمیں چونکا دے، یا جو ہمیں مشتعل کر دے، یعنی وہ مواد جو ہمارے جذبات کو ابھارتا ہے۔ نتیجتاً ہم غیر محسوس طریقے سے ایک echo chamber میں قید ہوتے چلے جاتے ہیں، جہاں مختلف زاویے نہ سنائی دیتے ہیں اور نہ ہی ہم تک پہنچ پاتے ہیں۔
اسی پس منظر میں جرمن فلسفی Byung-Chul Han ایک نہایت اہم نکتہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید دور میں طاقت صرف جبر یا پابندی کے ذریعے کارفرما نہیں ہوتی، بلکہ وہ انسانی ذہن کے اندر کام کرتی ہے۔ وہ اس رجحان کو Psychopolitics کا نام دیتے ہیں، یعنی ایسا نظام جس میں انسان خود کو آزاد سمجھتے ہوئے بھی مسلسل خود کو بہتر بنانے، زیادہ کارآمد ہونے اور ہر وقت مصروف رہنے کے دباؤ میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یوں انسان کسی بیرونی آمر کے ہاتھوں نہیں، بلکہ خود اپنے ہی ہاتھوں تھک کر نڈھال ہو جاتا ہے۔
یہ مسئلہ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے معاشروں میں، مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔ یہاں میڈیا لٹریسی عوامی سطح پر یکساں نہیں، حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں پر اعتماد کمزور ہے، معاشی حالات ابتر ہیں، اور جذباتی بیانیے تیزی سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں غلط معلومات برق رفتاری سے پھیلتی ہیں، جبکہ سوچ بچار اور غور و فکر کے ذریعے سچ تک پہنچنے کا عمل پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

اس مسئلے کا حل کسی ایک نعرے میں نہیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی مثبت عادتوں کے مجموعی اثر میں پوشیدہ ہے۔
کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے پہلے توقف، خبر کے ماخذ پر سوال اٹھانا، اور مختلف آرا سننے کی عادت ہمیں سچ کے قریب لے جا سکتی ہے۔

ویلیوورسٹی کا یقین ہے کہ تشدد، شور شرابہ یا خوف نہیں، بلکہ سوچ کی تبدیلی ہی اصل
آزادی کی طرف پہلا قدم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *