Skip to content
Home » Blog » ولیم اوسلر ،: مریض کا بستر اور طبی تعلیم

ولیم اوسلر ،: مریض کا بستر اور طبی تعلیم

ولیم اوسلر ،: مریض کا بستر اور طبی تعلیم

شارق علی
ویلیوورسٹی

بالٹیمور کے ایک ہسپتال کے وارڈ میں چند میڈیکل طلبہ اپنے استاد کے گرد جمع تھے۔ استاد نے میز پر رکھی موٹی طبی کتاب بند کی اور مسکرا کر کہا:
“آج ہم کتاب سے نہیں، مریض سے سیکھیں گے۔”

پھر وہ طلبہ کو ایک مریض کے بستر کے پاس لے گیا اور کہا کہ بیماری کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ مریض کو دیکھا جائے، اس کی بات سنی جائے، اس کا معائنہ کیا جائے اور اپنے استاد سے اس پر مباحثہ کیا جاے۔

یہ استاد تھا ولیم اوسلر، وہ طبیب جس نے جدید طب کی تعلیم کا انداز متعارف کروایا جسے ہم بیڈ سائیڈ ٹیچنگ کہتے ہیں۔

ولیم اوسلر 1849 میں کینیڈا میں پیدا ہوا۔ اس زمانے میں میڈیکل کالجوں میں تعلیم زیادہ تر درسی کتابوں اور لیکچرز تک محدود تھی۔ طلبہ بیماریوں کے بارے میں پڑھتے تو بہت تھے، مگر مریضوں سے براہِ راست سیکھنے کے مواقع کم استعمال کرتے تھے۔

اوسلر نے اس طریقے کو بدل دیا۔ اس کا ماننا تھا کہ طب اصل میں مریض کے بستر کے پاس سیکھی جاتی ہے۔ اس نے میڈیکل طلبہ کو وارڈ میں لے جا کر مریضوں کی شکایتوں اور مشکلات کی تفصیل لینے، ان کا معائنہ کرنے اور خود اپنے مشاہدے کو استاد کے ساتھ زیر بحث لا کر سیکھنے کا طریقہ رائج کیا۔

آج دنیا بھر میں جو کلینیکل روٹیشن اور وارڈ ٹیچنگ کا نظام موجود ہے، اس کی بنیاد اسی سوچ میں ملتی ہے۔

اوسلر نے 1892 میں ایک مشہور کتاب The Principles and Practice of Medicine بھی لکھی جو کئی دہائیوں تک ڈاکٹروں کی بنیادی رہنمائی کرتی رہی۔

لیکن اس کی اصل تعلیم صرف طب تک محدود نہیں تھی۔ وہ کہا کرتا تھا:

“اچھا ڈاکٹر بیماری کا علاج کرتا ہے، مگر عظیم ڈاکٹر اس انسان کا علاج کرتا ہے جسے بیماری لاحق ہے۔”

اسی سوچ نے طب کو صرف سائنس نہیں بلکہ انسان دوستی کا فن بنا دیا اور اسی وجہ سے آج بھی ولیم اوسلر کو جدید کلینیکل میڈیسن کی تعلیم کا معمار سمجھا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *