نکولا ٹیسلا کا خواب
شارق علی
ویلیوورسٹی
نیویارک کے ایک ہوٹل کا نیم تاریک کمرہ۔ ایک بوڑھا آدمی خاموش بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ جیب خالی، ہاتھ خالی، مگر ذہن اب بھی روشنیوں سے بھرپور۔ یہ تھا Nikola Tesla، وہ شخص جس نے دنیا کو آسان رسائی کی بجلی کا تحفہ دیا مگر اپنی زندگی اندھیروں میں گزار دی۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ ایک وقت تھا جب یہی شخص ایک خواب لے کر امریکہ آیا تھا۔ ایسا خواب جس میں بجلی صرف امیروں کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے ہر فرد کے لیے ہو۔
ابتدا میں اس نے Thomas Edison کے ساتھ کام شروع کیا، جو اس وقت کا سب سے بڑا موجد اور کاروباری ذہن تھا۔ مگر جلد ہی دونوں کے درمیان ایک خاموش جنگ چھڑ گئی۔ AC اور DC کی جنگ۔
ایڈیسن کا Direct Current محدود فاصلے تک مؤثر تھا، جبکہ ٹیسلا کا Alternating Current ایک ایسی طاقت تھی جو شہروں سے نکل کر ملکوں تک پھیل سکتی تھی۔ یہ صرف ٹیکنالوجی کا فرق نہیں تھا بلکہ سوچ کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف کاروباری ذہن، دوسری طرف تخلیقی بصیرت اور فلاح عام کی آرزو۔
نکولا ٹیسلا کی ایجادات جدید دنیا کی بنیادوں میں شامل ہیں۔ سب سے اہم اس کا Alternating Current یعنی AC نظام تھا، جس نے بجلی کو طویل فاصلے تک محفوظ اور مؤثر طریقے سے پہنچانا ممکن بنایا۔ آج دنیا بھر کی پاور سپلائی اسی اصول پر قائم ہے۔ اس نے AC موٹر اور ٹرانسفارمر تیار کیے، جبکہ Tesla Coil نے ہائی وولٹیج اور وائرلیس توانائی کے تجربات کو نئی جہت دی۔
ٹیسلا نے وائرلیس کمیونیکیشن اور ریموٹ کنٹرول کے ابتدائی تصورات پر بھی کام کیا۔ مختصراً وہ صرف ایک موجد نہیں بلکہ ایک وژنری تھا جس نے بجلی اور توانائی کے مستقبل کا نقشہ پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔
ٹیسلا نے اپنی ایجادات سے دنیا کو روشنی فراہم کی مگر خود اس کی راہ آسان نہ تھی۔ اسے قدم قدم پر مالی مشکلات، تنہائی اور عدم پذیرائی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس نے Wardenclyffe Tower کے ذریعے وائرلیس توانائی کا خواب دیکھا مگر وسائل کی کمی نے اس خواب کو ادھورا چھوڑ دیا۔
آج جب الیکٹرک بیٹریوں سے چلنے والی کاریں سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں اور ٹرانسفارمرز کے دم سے بازاروں کی روشنیاں جگمگاتی ہیں تو ان میں کہیں نہ کہیں ٹیسلا کے دیکھے خواب بھی شامل ہوتے ہیں۔
اس کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کچھ لوگ کامیابی کے عمومی پیمانوں سے نہیں بلکہ اپنے وژن کی وسعت سے پہچانے جاتے ہیں اور ٹیسلا انہی میں سے ایک تھا۔
