🌌 ستاروں کی دھول
سیارچہ Bennu کی کہانی
شارق علی
ویلیو ورسٹی
کائنات میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں اپنی اصل کہانی سنانے کے لیے خاموشی سے انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ انہی خاموش گواہوں میں ایک چھوٹا سا سیارچہ بھی شامل ہے، جس کا نام Bennu ہے۔
Bennu خلا میں گردش کرنے والا ایک پتھریلا جسم ہے جو سورج کے گرد مسلسل چکر لگا رہا ہے۔ اگرچہ یہ زمین سے بہت دور ہے، مگر اس کے اندر چھپی معلومات ہماری اپنی پیدائش کی کہانی سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
ناسا کے OSIRIS-REx مشن نے Bennu سے تھوڑی سی مٹی زمین تک واپس لانے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ کوئی عام مٹی نہیں تھی۔ اس میں ایسے نہایت باریک ذرات موجود تھے جو ستاروں کے مرنے، یعنی سپرنووا کے دوران تشکیل پائے تھے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ ذرات ہمارے سورج اور زمین کی پیدائش سے بھی پہلے کے ہیں۔ سائنس کی زبان میں انہیں پری سولر گرینز کہا جاتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ Bennu کے مختلف حصوں پر پانی کے اثرات یکساں نہیں تھے۔ کچھ جگہوں پر پانی نے پتھروں کی ساخت کو بدل دیا، جبکہ کچھ حصے تقریباً ویسے ہی محفوظ رہے جیسے وہ ابتدا میں تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ Bennu کا اصل جسم سادہ نہیں، بلکہ اندر سے خاصا پیچیدہ رہا ہے۔
سب سے زیادہ حیران کن دریافت یہ تھی کہ Bennu میں ستاروں کی دھول کی مقدار عام شہابی پتھروں کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ پائی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہمارا شمسی نظام کسی ایسے علاقے میں تشکیل پایا جہاں کسی بڑے ستارے کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی دھول پہلے سے موجود تھی۔
اس اہم تحقیقی ٹیم میں ایک پاکستانی نژاد امریکی سائنسدان، الیکٹرون مائکروسکوپ انجینئر ضیا الرحمٰن بھی شامل ہیں، جو ناسا میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔
سادہ الفاظ میں، Bennu ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہماری زمین، ہمارا سورج، اور ہم خود — سب کسی نہ کسی سطح پر ستاروں کی دھول سے جڑے ہوئے ہیں۔
