Skip to content
Home » Blog » ایڈریاٹک کنارے ,نیرتوا کے بہتے دکھ

ایڈریاٹک کنارے ,نیرتوا کے بہتے دکھ

  • by

ایڈریاٹک کنارے ,نیرتوا کے بہتے دکھ

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہم موستار شہر کی قدیم گلیوں میں کچھ وقت گزارنے کے بعد جب دوبارہ استاری موست پل پر پہنچے تو میں کچھ دیر وہیں کھڑا ہو گیا اور نیچے بہتے دریائے نیرتوا کے سبزی مائل فیروزی پانی کو خاموشی سے دیکھتا رہا۔ یہ دریا صدیوں سے کتنی کہانیوں کا ہاتھ تھامے بہ رہا ہے۔
دریا پر تعمیر شدہ یہ سنگل آرچ، قوس نما پل محض پچاس ساٹھ فٹ طویل ہے اور قدیم پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ پل کا متوازن تعمیری تناسب، اس کی خمیدہ ساخت، اور اس پر جمی صدیوں کی پروقار تاریخ، اس پر سے گزرنا ایک ناقابلِ فراموش تجربہ بنا دیتی ہے۔

نیچے دریا کے کنارے بیٹھے سیاح اور مقامی لوگ، پانی میں دھیرے چلتی کشتیاں، اور کہیں کہیں گزرتی موٹر بوٹ کا شور، یہ سارا منظر سنہری دھوپ میں جگمگا رہا تھا۔

اس دلکشی کے پس منظر میں بے گناہ انسانی خون کے بہنے کا تصور بالکل ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے۔ پھر میرا ذہن حال کی اس خوشگوار رونق سے نظریں بچا کر ماضی کی گلیوں میں اتر گیا۔

سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان سلیمان دی میگنیفیسنٹ کے سنہری دور میں اس پل کی تعمیر 1566ء میں مکمل ہوئی۔ یہ پل محض پتھروں سے نہیں، بلکہ ثقافتوں کے درمیان ربط، اعتماد اور وصل کے وعدوں سے تعمیر ہوا تھا۔ بعد ازاں سلطنتیں بدلتی رہیں۔ آسٹریو۔ہنگیرین حکمرانی آئی، جنگِ عظیم کے سائے آگے بڑھے، یوگوسلاویہ کا کمیونسٹ دور گزرا، اور پھر نوّے کی دہائی میں قومیت اور مذہب کی نفرت انگیز تقسیم نے اس پل کو لہو لہان کر دیا۔

اسی پل پر کھڑے ہوئے مجھے ناول دی برج آن دی درینا یاد آیا، جسے یوگوسلاوی مصنف ایوو آندریچ نے تحریر کیا اور جس پر انہیں 1961ء میں ادب کا نوبیل انعام ملا۔ یہ ناول بوسنیا کے شہر ویشی گراد میں واقع محمد پاشا سوکولووِچ پل کے گرد گھومتا ہے، ایک ایسا پل جو سولہویں صدی میں عثمانی دور میں تعمیر ہوا تھا۔

یہ کتاب کسی ایک کردار کی داستان نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط بوسنیا کی تاریخ کا بیان ہے۔ عثمانی دور، آسٹرو۔ہنگیرین اقتدار، مذہبی و نسلی کشیدگیاں، اور عام انسان کی خاموش زندگی۔ اگرچہ یہ پل موستار کے استاری موست سے مختلف ہے، مگر دونوں بلقان کی پیچیدہ تاریخ اور عثمانی انجینئرنگ کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

موستار وہ شہر ہے جو کبھی مسجدوں اور رومن کیتھولک کلیساؤں کی ہم آہنگی کا گواہ رہا۔ پھر مذہبی اور قومیتی شناخت کی بنیاد پر یہ شہر لہو لہان ہوا۔ انسانی محبت اور بقائے باہمی کی جگہ نفرت اور تقسیم کے جنون نے لے لی۔
وہ شہر جہاں کبھی رشتے زبان، محلے اور ہمسائیگی سے بنتے تھے، قومیت اور مذہب کی بنیاد پر ٹوٹ گئے۔

لیکن اب آہستہ آہستہ یہ زخم مندمل ہو رہے ہیں۔
بازاروں میں ملی جلی قومیتوں کی رونق، مساجد کے مینار، کلیسا کے برج، اور گلیوں میں گھلتی ملتی زندگیاں ایک نئی امید جگاتی ہیں۔
ہماری گائیڈ نے بتایا کہ اب یہاں بین المذاہب شادیاں دوبارہ معمول بنتی جا رہی ہیں۔ انسان نے انسان سے پھر سے رشتہ جوڑ لیا ہے۔

پھر میری خاموشی نے دریائے نیرتوا کو ایک خاموش، امید بھری تسلی دی، اور میں دھیمے قدموں سے موستار کے کوچ اسٹیشن کی سمت بڑھنے لگا۔

موستار کی سیر مکمل ہونے کے بعد اب ہم ایک بار پھر اپنی سیاہ رنگ کی لگژری کوچ میں آ بیٹھے ہیں۔ اب ہمارا اگلا پڑاؤ کراویچا آبشاریں ہیں۔ کوچ آہستہ آہستہ شہر کی حدود سے نکل کر ہرزگووینا کے سرسبز دیہی علاقوں میں داخل ہو گئی۔ یہ آبشاریں دریائے تریبیژات کے قدرتی بہاؤ کا حصہ ہیں اور صدیوں سے اس خطے کی جغرافیائی شناخت کا اہم جزو رہی ہیں۔ عثمانی دور سے لے کر بعد کے زمانوں تک یہ علاقہ مقامی آبادی کے لیے پانی اور زراعت کا قدرتی سہارا رہا ہے۔

جیسے جیسے کوچ اس مقام کے قریب پہنچ رہی تھی، فضا میں نمی، سبزہ اور بہتے پانی کی موجودگی کا احساس گہرا ہوتا جا رہا تھا، اور ہمیں اندازہ ہو چلا تھا کہ آگے فطرت کا ایک اور حیرت انگیز منظر ہمارا انتظار کر رہا ہے۔۔۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *