ال نصلاء، صحرا کا راز
شارق علی
ویلیوورسٹی
سعودی عرب کے تیماء نخلستان میں ایک چار ہزار سال پرانی چٹان موجود ہے جسے ال نصلاء کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ چٹان اپنے بالکل سیدھے اور بے عیب شگاف کی وجہ سے مشہور ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے دو منزلہ پتھر کو ایک ہی لیزر بیم سے درمیان سے کاٹ دیا ہو۔
چٹان کے دونوں حصے الگ الگ چھوٹے پتھریلے ستونوں پر کھڑے ہیں اور ان کی سطح پر موجود قدیم پتروگلیفز اس کے ہزاروں سال پرانے انسانی تعلق کی نشانی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ شگاف بنا کیسے؟
ماہرین ارضیات کے مطابق اس کی وجہ کوئی پراسرار طاقت یا کھوئی ہوئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ قدرت کا دہائیوں اور صدیوں پر پھیلا ہوا صبر ہے۔ ممکن ہے کہ:
ریتلے پتھر میں پہلے سے موجود کوئی قدیم سیدھی دراڑ وقت کے ساتھ کھل گئی ہو،
زمین کی پرتوں کی ٹیکٹونک حرکت نے اسے مزید وسیع کیا ہو،
موسم کی تبدیلیوں میں جماؤ اور پگھلاؤ یعنی فریز اور تھا کے عمل نے اسے لمبا کیا ہو،
اور پھر صحرا کی ہوا اور ریت نے اس درز کو صیقلی کرکے ہموار بنا دیا ہو۔
یوں ہزاروں سال میں ایک ایسی چٹان وجود میں آئی جسے دیکھ کر پہلی نظر میں انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔
ال نصلاء ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قدرت اپنے فن میں بے مثال ہے۔ کبھی کبھی صحرا کی خاموشی میں بھی ایسے راز چھپے ہوتے ہیں جو انسان کو رک کر سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
