Skip to content
Home » Blog » ابن النفیس: دورانِ خون کا راز

ابن النفیس: دورانِ خون کا راز

  • by

ابن النفیس: دورانِ خون کا راز

شارق علی
ویلیوورسٹی

دمشق کے ایک مدرسے کی کٹیا میں ایک نوجوان طبیب قدیم طبی کتاب کے مطالعے میں غرق تھا۔ یہ کتاب عظیم یونانی طبیب جالینوس کی تھی، جس میں لکھی باتوں کو صدیوں سے طب کی آخری سچائی سمجھا جاتا تھا۔ مگر نوجوان طبیب کی پیشانی پر سوالات کی لکیریں ابھر رہی تھیں۔
اس نے دل ہی دل میں کہا:
“یہ ممکن نہیں کہ خون دل کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں سیدھا گزر جائے۔ پھر تو مختلف حصے ہونے کا مقصد کیا ہوا؟ درمیان میں کوئی راستہ ہونا چاہیے۔”

یہ نوجوان طبیب تھا Ibn al-Nafis، ایک ایسا عالم جس نے انسانی جسم کے بارے میں صدیوں پرانا غلط تصور بدل کر رکھ دیا۔

ابن النفیس 1213 میں دمشق میں پیدا ہوا۔ اس نے وہاں کے مشہور طبی ادارے Bimaristan al-Nuri میں طب کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ مصر چلا گیا اور قاہرہ کے بڑے ہسپتال Al-Mansuri Hospital میں طبیب اور استاد کے طور پر کام کرنے لگا۔
اسی دوران اس نے انسانی جسم کے بارے میں گہری تحقیق شروع کی۔

قدیم طبی نظریہ یہ تھا کہ خون دل کے دائیں حصے سے بائیں حصے میں براہِ راست منتقل ہو جاتا ہے۔ ابن النفیس نے اس نظریے کو مسترد کرتے ہوئے ایک نئی وضاحت پیش کی۔

اس نے لکھا کہ خون پہلے دل کے دائیں حصے سے پھیپھڑوں میں جاتا ہے، وہاں ہوا کے ساتھ تعامل کرتا ہے اور صاف ہوتا ہے۔ پھر پھیپھڑوں سے دل کے بائیں حصے میں واپس آتا ہے۔ آج ہم دورانِ خون کے اس اہم حصے کو Pulmonary circulation کہتے ہیں۔

یہ خیال اس زمانے میں حیرت انگیز تھا، کیونکہ اس نے جالینوس کے صدیوں پرانے نظریے کو چیلنج کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپ میں اسی تصور کو تقریباً تین سو سال بعد William Harvey کے کام کے بعد وسیع شہرت ملی۔

ابن النفیس صرف ایک طبیب ہی نہیں بلکہ ایک مفکر اور مصنف بھی تھا۔ اس نے طب، فلسفہ اور سائنس پر کئی کتابیں لکھیں۔ مگر اس کی سب سے بڑی میراث، سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ اس نے انسانی جسم کے اندر خون کے سفر کا ایک نیا اور اہم راستہ دکھایا۔

کبھی کبھی علم کی تاریخ میں کسی عالم کے ذہن میں اٹھنے والا تنقیدی سوال صدیوں پرانے یقین کو بدل دیتا ہے۔ ابن النفیس کا سوال بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *