ایذٹیک کون؟ دوسرا انشا ، امریگو کہانی، انشے سیریل ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

ایذٹیک کون؟ دوسرا انشا ، امریگو کہانی، انشے سیریل ، ویلیوورسٹی ، شارق علی

ہیلو ہاے کی رسومات سے فارغ ہوکر ہلکے سروں میں گنگناتے لمبے چوڑے افرو کیریبین ٹیکسی ڈرائیور نے ہمارے وزنی سوٹ کیسز کو کھلونوں کی طرح اٹھایا اور گاڑی کی ڈکی میں ترتیب سے رکھ دیا۔ ہم ایرپورٹ کی سمت روانہ ہوے۔ برثش ایئر ویز کا وہ بوینگ طیارہ جس نے ہمیں لندن سے میری لینڈ ڈلس ایئرپورٹ لے جانا تھا ہیتھ رو پر ہمارا منتظر تھا۔ مقررہ وقت کے مطابق اس کی روانگی صبح ساڑھے آٹھ بجے تھی۔ حسب ہدایت کم ازکم دو گھنٹے پہلے پہنچنے کے لیے ہم پانچ بجے گھر سے روانہ ہوئے۔ روانگی سے ایک رات پہلے منی بس کے اچانک مہیا نہ ہونے کی اطلاع موصول ہوتے ہی ہم نے دو متبادل ٹیکسیوں کا انتظام کر لیا تھا۔ ہم دو ٹکڑیوں میں بٹ کر اپنے سامان سمیت روانہ ہوے تو صبح کے ٹھیک پانچ بجے تھے۔ موسم گرما ہونے کے سبب سے خاصا دن نکل آیا تھا ۔ ان دنوں لندن میں فجر کا وقت سوا چار بجے تھا۔ ابھی کیونکہ آفس کے اوقات شروع نہ ہوئے تھے اس لیے موٹروے نمبر گیارہ اور پھر پچیس پر ٹریفک نسبتا کم تھا۔ یہ دلچسپ دیوقامت ٹیکسی ڈرائیور صاحب گفتگو کے شوقین نکلے۔ راستے بھر روس اور یوکرین کی جنگ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے رہے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ ہم امریکہ جا رہے ہیں تو امریکی سیاست اور تاریخ بھی زیر بحث آ گئی۔ یہان ہماری منزل امریکہ یا اس کہانی کے مرکزی کردار امریگو کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ یہ نسبتاً نو دریافت دنیا دو براعظموں پر مشتمل ہے، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ۔ وسطی امریکہ، کیریبین اور گرین لینڈ کو شمالی امریکہ ہی کا حصہ سمجھا جاتا ہے براعظم امریکہ میں شامل مشہور ممالک کی تعداد پینتیس کے لگ بھگ ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ، کینیڈا ، پرازیل ، میکسیکو ، ارجنٹینا اور دیگر اور بہت سے اہم ممالک اس میں شامل ہیں۔ یہاں کی تاریخ بہت سی قدیم تہذیبوں مثلآ ایزٹیک ، انکا ، مایا کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔ ایواکاڈو، ٹماٹر اور چاکلیٹ۔ ہم میں سے کون ہے جو ان کھانے کی اشیاء سے واقف نہیں۔ دنیا بھر میں رائج ان اشیاء کے یہ نام جس زبان سے نکلے ہیں وہ آج بھی میکسیکو میں کہیں کہیں بولی جاتی ہے ۔ اس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور یہ قدیم ایزٹیک یا میکسیکا تہزیب تک پہونچتی ہیں ٹیکسی ایرپورٹ کے پک اینڈ ڈراپ کارنر پر جا رکی۔ سامان باہر نکال کر ٹرالیز پر رکھا گیا۔ ادائیگی اور شکریہ کے بعد ہم ایئرپورٹ لاؤنج میں داخل ہوے۔ سامان چیک ان کروانے اور سیکیورٹی سے گذر کر ہم ناشتے کی غرض سے کیویر برج نامی ریسٹورنٹ کے سامنے لگی قطار میں شامل ہو گئے۔ کچھ دیر کے انتظار کے بعد جگہ ملی تو ناشتے کا آرڈر دیا گیا۔ ناشتے کا انتظار کرتے ہوے میں ایذٹیک کے بارے میں سوچنے لگا۔ امریکا کی قدیم اور عظیم تہذیبوں میں سے ایک ۔ اس تہذیب نے سن چودہ سو سے لے کر پندرہ سو دس عیسوی تک وسطی میکسیکو سے ملحقہ وسیع علاقوں میں حکمرانی کی۔ انہوں نے اپنے دیوتاؤں کی عبادت کے لیے وسیع احرام نما مندر تعمیر کیے جہاں وہ عام لوگوں کو پکڑ کر دیوتاؤں کے لئے قربان کر دیتے تھے۔ اس سلطنت کا دارالحکومت ٹینوکٹٹلان نامی عظیم شہر تھا جو ایک وسیع جھیل کے کنارے آباد تھا. اپنے عروج کے زمانے میں اس شہر کی آبادی تقریبا دو لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔ شہر کے وسط میں بڑی عبادت گاہوں کا سلسلہ اور بادشاہ کا محل تعمیر کیا گیا تھا۔ باقی شہر کی تعمیر بھی مربوط منصوبہ بندی کے تحت کی گئی تھی۔ شہر کو مختلف اضلاع میں تقسیم کیا گیا تھا۔ دیگر علاقوں تک آنے جانے کے لیے مربوط نظام اور میٹھے پانی کی ترسیل کے لیے منصوبہ بندی موجود تھی۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.