نئی دنیا ، پہلا انشا ، امریگو کہانی ، انشے سیریل ، ویلیوورسٹی شارق علی

نئی دنیا ، پہلا انشا ، امریگو کہانی ، انشے سیریل ، ویلیوورسٹی شارق علی

برطانیہ کے پھولوں سے لدے سرسبز و شاداب موسم بہار کو چھوڑ کر امریکا کے مشرقی ساحلی شہروں کے نسبتاً گرم موسم میں چھٹیاں گزارنا نہ جانے عقلمندی تھی یا نا سمجھی۔ پھر بھی ہم سب بہت خوش تھے۔ بہن بھائیوں اور کزنز کا ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر گھومنے اور چند خوشگوار دن ایک ساتھ گزارنے سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ ہم بہت مسرور تھے۔ کہتے ہیں قدیم نقشہ میں براعظم امریکہ کو امریگو لکھا گیا۔ جو بعد میں لاطینی اثر سے امریکہ بن گیا۔ جانے والے اولین انسان وہاں پہونچنے سے پہلے نہ تو خوش تھے نہ ہی افسردہ۔ نہ ہی انہوں نے وہاں پہونچنے کے لیے سفر کی تیاری کی تھی۔ ان کو تو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ سفر کرتے کرتے کسی نئی سرزمین تک پہونچ چکے ہیں۔ تقریباً بیس سے پچیس ہزار سال پہلے ہماری زمین پر آخری برفانی دور اپنے قدم سمیٹ رہا تھا۔ موجودہ سایبیریا کے غاروں میں اس دور کے خانہ بدوش شکاری انسانوں کی کوی ٹولی رہا کرتی تھی۔ وہ مل جل کر شکار پر گذر بسر کرتے تھے۔ ایک بار شکار کے تعاقب میں بھٹکے تو مہینوں بلکہ سالوں سفر کرتے برف سے ڈھکی سطح زمین پر دیگر انسانی ٹولیوں سے بچھڑ گئے۔ پھر وہ اتفاقاً سمندر کی سطح پر موجود اٹھاسی میل چوڑے برفانی پل کو عبور کر کے ایک نئی دنیا میں آ بسے۔ اس آبی گذرگاہ کو آج ہیرنگ سٹریٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس انسانی ٹولی کے لیے تو سفر کی تیاری کا مرحلہ تھا ہی نہیں۔ لیکن ہم نے کچھ دن پہلے ہی سے سفر کی تیاری شروع کر دی تھی۔ گیراج میں سے سوٹ کیس نکالے گئے ، میزبانوں کے لیے تحفوں ، سوغاتوں کی خریداری ہوی۔ موسم کی مناسبت سے کپڑوں کا انتخاب کیا گیا۔ ایرپورٹ پہنچنے کے لیے منی بس کی بروقت بکنگ کروائی گئی۔ ٹریول کرنسی کا انتظام ہوا ۔ روانگی سے ایک دن قبل کووڈ ٹیسٹ کا اہتمام کیا گیا اور ٹیسٹ کے منفی آنے کی گڑگڑا کر دعائیں مانگی گئیں ۔ گویا مصروفیت ہی مصروفیت تھی۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہمارے سفر میں کون کون سے مقامات شامل ہیں۔ جبکہ پرانی دنیا کی وہ گم شدہ شکاری ٹولی تو اس بات سے بہت طویل عرصے تک ناواقف رہی کہ وہ اپنے وجود میں انسانی جینز کا سرمایہ سمیٹے کسی نئی دنیا میں آ بسی ہے۔ گویا نءی اور پرانی دنیایں بچھڑ چکی تھیں۔ ان دو دنیاؤں کے بچھڑ جانے کا سبب یہ تھا کہ تقریبآ گیارہ ہزار سال پہلے جب گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا تو ہیرنگ سٹریٹ کا برفانی پل پگھل کر سمندر میں تبدیل ہو گیا۔ اب سمندروں کی سطح بلند ہو چکی تھی ۔ بیرنگ سٹریٹ کا تنگ خشک راستہ پھر سے گہرے پانیوں میں ڈوب چکا تھا۔ پرانی دنیا اور نئی دنیا کے درمیان زمینی رابطہ ختم ہو چکا تھا۔ اب یہ نءی دنیا ہی بھٹکی ہوی ٹولیوں کا نیا ٹھکانہ تھی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پرانی دنیا کے انسانوں کو ایک بار پھر۔ نءی دنیا کی دریافت میں ساڑھے دس ہزار سال کا عرصہ لگا۔ کیا ہی اچھا ہو جو ہم چھٹیوں میں اس سفر کی دلچسپیوں کے علاوہ چند اہم سوالوں کا جواب ڈھونڈھنے کی کوشش بھی کریں۔ مثلآ یہ کہ نءی دنیا میں بسنے والی ٹولیوں نے یہ ہزاروں سال کیسے گزارے؟ وہ کس طرح اس بہت بڑے خشکی کے ٹکڑے پر پھیلتے چلے گئے۔ کیونکر انکا ، مایا اور آزٹیک جیسی عظیم تہذیبین قایم ہویں۔ بےشمار چھوٹے بڑے جزائر میں انہوں نے کیسے پر امن بستیاں بسایں۔ پھر یہ نءی دنیا کس نے اور کیسے دوبارہ دریافت کی؟ ان ظالم طالع ازماوں نے یہاں کے اصل باسیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ اور اس براعظم کا ایک ملک ریاستہائے متحدہ امریکہ دنیا کی سپر پاور کیسے بنا؟ امریگو کہانی چھٹیوں کا احوال بھی ہے اور ان سوالوں کے جوابوں کی تلاش بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.