علمی ذخیرہ ، ابتدا سے اج کل ، انشے سیریل ، بتیسواں انشا ، شارق علی ، ویلیو ورسٹی

علمی ذخیرہ ، ابتدا سے اج کل ، انشے سیریل ، بتیسواں انشا ، شارق علی ، ویلیو ورسٹی

ہم دی کیچ نامی ریستوران میں نفاست سے پیش کیے گئے فش اینڈ چپس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ بیضوی پلیٹ میں پلیس کا تلا ہوا بڑا سا فلے اور ساتھ ہی بہت سے چپس۔ ساتھ رکھی چھوٹی پیالیوں میں ٹارٹر ساس اور مشی پیز۔ جیک بولا۔ یہ نفاست زیادہ پرانی بات نہیں۔ ڈیڈ بتاتے ہیں کہ انیس سو اسی تک انگلینڈ کی بیشتر دکانوں میں فش اور چپس اخبار میں لپیٹ کر پیش کیے جاتے تھے۔ ذن نے کہا۔ مجھے روایت پر عمل اچھا لگتا ہے ۔ مثلآ یہ کہ تم انگریز لوگ قطار توڑنا اتنا ہی برا سمجھتے ہو جتنا کہ چوری یا ڈاکہ۔ جیک بولا۔ ہاں ہم روایت پسند لوگ ہیں۔ ساٹھ ستر کی دہائی تک جس طرح تمہارے گھروں میں اتوار کو پلاؤ بننا ضروری سمجھا جاتا تھا اسی طرح یہاں برطانیہ میں روسٹ بننا لازمی بات تھی۔ چرچ میں عبادت کے بعد کی دعوت میں روسٹ نہ ہو یہ ممکن نہ تھا۔ تین ہی تو کھانے ہیں ہمارے پاس۔ یارکشایر پڈنگ ، سنڈے روسٹ اور فش اینڈ چپس۔ لیکن اب انڈین کری ہماری قومی غذا بن چکی ہے۔ پروف بولے۔ روایت ایک نوعیت کا علمی ذخیرہ ہوتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کے لیے بہت کارامد۔ لنچ سے فارغ ہو کر ٹہلتے ہوے نکلے اور میڈنگلے ہال کی جانب چلے تو پروف نے کہا۔ جینیاتی اصولوں کے ماتحت کام میں مصروف فطری نظام کا مشاہدہ بھی بہت دلچسپ ہوتا ہے۔ پھر اس کا موازنہ انسانی قوانین اور اصولوں پر مبنی نظام سے کر کے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ کوی مثال؟ میں نے بات بڑھائی۔ بولے۔ مثلآ کسی درخت کی شاخوں میں چھپے شہد کے چھتے کو بغور دیکھو۔ یہ مکھیوں کا متحرک اور مستحکم معاشرہ ہے۔ پر کارکن اپنے کام سے بخوبی واقف ہے۔ اسے یہ قوانین سمجھنے یا یاد رکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ اصول اس کے ڈی این اے میں محفوظ ہیں۔ اس معاشرے میں کچھ ملکایں، بیشتر کارکن اور چند مہتر مکھیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن ہم لاکھ تلاش کریں تو بھی ہمیں وکیل ، جج یا پولیس مکھیاں نہیں ملیں گی۔ کیونکہ اس نظام میں آئین اور قوانین سے انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مکھیوں کے درمیان یہ خطرہ موجود نہیں کہ وہ اپنے مفاد میں آئین توڑ دیں۔ ملکہ مکھی کارکن مکھیوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالتی۔ نہ ہی کارکن مکھیاں تنخواہ میں اضافے کے لیے ہڑتال کی دھمکی دے سکتی ہیں۔ جینیات پر مبنی یہ فطری نظام عمومی طور پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں برس تک پر امن فطری تقاضوں سے ہم آہنگ اور اندرونی بحران سے محفوظ چلتا رہتا ہے جب تک کہ کوی بیرونی خطرہ اسے تباہ و برباد نہ کر دے۔ اور انسانی اصولوں اور روایت پر مبنی نظام؟ جیک نے پوچھا۔ بولے۔ ان سامنے باسکٹ بال کھیلتے چند نوجوانوں کو دیکھو ۔ فطری ارتقا نے انہیں پیروں ، بازوؤں اور شانوں سے نواز کر اس قابل تو ضرور کیا ہے کہ وہ بھاگ سکیں اور گیند کو باسکٹ میں ڈال سکیں۔ لیکن کالج کے پچھواڑے چار اجنبیوں کے ساتھ یہ کھیل کھیلنے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کھیل کے یکساں اصولوں کو یاد رکھنا اور ان پر قائم رہنا ہو گا۔ یہ اصول اور ان سے شناسائی ہمارے جینز میں موجود نہیں۔ یہ تو خود انسان کے بنائے ہوئے اصول اور ان پر مشترکہ یقین ہے جس کی بنیاد پر ایسی ہم آہنگی ممکن ہو جاتی ہے۔ اسی مثال کو تم بڑے پیمانے پر مذہبی عبادت گاہوں ، مملکتوں اور عالمی تجارت میں ہونے والی انسانی ہم آہنگی میں دیکھ سکتے ہو۔ ان اصولوں کو لکھنے انہیں محفوظ کرنے کے لئے کتابیں ، کمپیوٹر ، لائبریری اور دیگر معلوماتی ذخائر کی صورتیں درکار ہوتی ہیں۔ ان معلوماتی ذخائر کی مدد سے انسانوں نے ڈی این اے کی قید سے آزاد ہو کر ایک بڑی جست لگائی ہے۔ وہ فطری جبلت کی حدود سے آگے بڑھ کر اس کاینات میں اپنے مقام کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ پانچ سو سالوں میں دنیا ڈرامائی طور پر تبدیل ہوئی ہے۔ معلومات ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے اعتبار سے آج کی دنیا کا ایک عام سایز کا کمپیوٹر پانچ سو برس پہلے کی دنیا کا تمام علمی ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.