لاعلمی کی دریافت  ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، اکتیسواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

لاعلمی کی دریافت  ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، اکتیسواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

کچلے ہوے (میشڈ) ایوا کاڈو اور نیم اُبلے انڈوں کے سینڈوچ اور سٹرابیری سمودی کے صحتمند لنچ سے لطف اندوز  ہو چکے تو پیٹر برا کے تاریخی کیتھیڈرل کی جانب چلے۔ سٹی سینٹر اور یہ عمارت بالکل متصل ہیں۔ پتہ ہی نہیں چلتا کے کہاں بازار ختم ہوتا ہے اور کہاں سے کیتھڈرل کے اطراف کی ثانوی تعمیرات شروع ہوتی ہیں۔ ذن نے پروف سے پوچھا۔ سائینسی انقلاب کا آغاز کیونکر ہوا؟ کہنے لگے۔  اس کی ابتدا لاعلمی کی دریافت سے ہوی تھی۔ جہالت کو تسلیم کرلینا علم کے حصول کی جانب عظیم پیش رفت ہوتی ہے۔ سائنسی انقلاب علم کا نہیں جہالت کو بلا جھجھک تسلیم کر لینے کا انقلاب تھا۔  سائنس میں سب سے عظیم دریافت یہ بات جاننا ہے کہ ہم انسان اپنے اہم ترین سوالات کے جوابات نہیں جانتے۔ سقراط نے کہا تھا میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔ ہم بیرونی دروازے سے گزر کر آگے بڑھے تو کتھیڈرل کی مکمل عمارت نگاہوں کے سامنے تھی۔ پیلے پتھروں سے بنی خاصی اونچی عمارت۔ سامنے سرسبز گھاس سے ڈھکا لان۔ بیچ میں مرکزی دروازے کو جاتی پیدل گذرگاہ۔ تصویریں اتارنے کے مختصر وقفے میں بنچ پر بیٹھے تو جیک نے پوچھا۔مزہبی سوچ ساینس سے مختلف کیسے ہوی؟ بولے۔ دنیا کے بڑے مذاہب مثلآ عیسائیت، اسلام ، بدھ مت اور کنفیوشس ازم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا کے بارے میں جاننا اس لیے ضروری نہیں کیونکہ سارا علم آسمانی صحیفوں یا مقدس دانش میں محفوظ ہے۔ انہیں سب کچھ پہلے سے معلوم ہے۔  عظیم دیوتا، یا ایک قادر مطلق خدا، یا ماضی کے دانشمندوں کے پاس ہمہ گیر حکمت موجود ہے جسے انہوں نے صحیفوں اور زبانی روایات میں ظاہر کر دیا ہے۔  عام انسانوں کو ان قدیم متون اور روایات کا مطالعہ کرکے اور انہیں صحیح طور پر سمجھ کر علم حاصل کرنا چاہیے۔  یہ ناقابل فہم ہے کہ بائبل، قرآن یا وید کائنات کے کسی بھی اہم راز سے محروم ہوں – کوی بھی ایسا راز جسے گوشت پوست کی مخلوق اپنی دانش  کے ذریعے دریافت کر سکے۔ کیتھڈرل کا بیرونی منظر خاصا دلکش تھا۔ ایک کشادہ محراب مرکزی دروازے کے بالکل اوپر ۔ دایں بایں بھی ایسی ہی دو محرابیں۔ چھت پر بہت سے نوکیلے کنگورے۔ متاثر کن اور منفرد طرز تعمیر۔ جیک نے بتایا۔ اس کی بنیاد اینگلو سیکسن کے دور میں رکھی گئی تھی لیکن موجودہ عمارت نارمن انداز کی ہے، بارہویں صدی میں دوبارہ تعمیر کے بعد یہ انگلینڈ کی اہم ترین مذہبی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں دو ملکایں دفن ہیں۔  مسلسل دیکھ بھال نے یہ عمارت اصلی شکل میں محفوظ رکھی ہے۔ ہم مرکزی دروازے کی سمت بڑھے تو ذن نے پوچھا۔ ساینسی سوچ سے آپ کی کیا مراد ہے؟ پروف بولے۔ جدید سائنس دان بلا تکلف تسلیم کرتے ہیں کہ ہم سب کچھ نہیں جانتے۔ پھر وہ یہ بھی قبول کرتے ہیں کہ جو علم یا حقائق وہ جانتے ہیں وہ غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔  کوئی تصور، خیال یا نظریہ مقدس اور چیلنج کیے جانے سے بالا تر نہیں۔ وہ نہ جاننے کو تسلیم کر لینے کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں۔مشاہدے اور ریاضی کی مرکزیت کی طرح۔ جدید سائنس کا مقصد نیا علم حاصل کرنا ہے۔  مشاہدات کو جمع کرکے اور پھر ان مشاہدات کو جامع نظریات سے جوڑ کر اور ریاضیاتی ٹولز کا استعمال کرکے وہ حقایق تک پہونچتے ہیں۔ جدید سائنس صرف نءے نظریات کی تخلیق سے مطمئن نہیں ہوتی۔  وہ ان نظریات کو نئی طاقتوں کے حصول یعنی نئی ٹیکنالوجیز کو تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.