تمھیں جانے کی جلدی تھی ایوب خاور کی ایک دکھی نظم

تمھیں جانے کی جلدی تھی

ایوب خاور کی ایک دکھی نظم

تمھیں جانے کی جلدی تھی

سو اپنی جلد بازی میں

تم اپنے لمس کی کرنیں، نظر کے زاویے ، پوروں کی شمعیں

میرے سینے میں بھڑکتا چھوڑ آئے ہو

وہاں تکیے کے نیچے

کچھ سنہرے رنگ کی ٹوٹی ہوئی سانسیں

کسی نوزائیدہ خوشبو کے تازہ خوابچے

بستر کی شکنوں میں گرے کچھ خوبرو لمحے

ڈریسنگ روم میں ہینگر سے لٹکی ایک صدرنگی ہنسی کو

بس اچانک ہی پسِ پردہ لٹکتا چھوڑآئے ہو

تمھیں جانے کی جلدی تھی

اب ایسا ہے کہ جب بھی

بے خیالی میں سہی لیکن کبھی جو اِس طرف نکلو

تو اتنا یاد رکھنا

گھر کی چابی صدر دروازے کے بائیں ہاتھ پر

اک خول میں رکھی ملے گی

اورتمھیں معلوم ہے

کپڑوں کی الماری ہمیشہ سے کھلی ہے

سیف کی چابی تو تم نے خود ہی گم کی تھی

سو وہ تب سے کھلا ہے اور اُس میں کچھ تمھاری چوڑیاں، اِک آدھ انگوٹھی اور ان کے بیچ میں کچھ زرد لمحے اور اُن لمحوں کی گرہوں میں بندھی کچھ لمس کی کرنیں، نظر کے زاویے پوروں کی شمعیں اور سنہرے رنگ کی ٹوٹی ہوئی سانسیں ملیں گی اور وہ سب کچھ جو میرا اورتمھارا مشترک سا اک اثاثہ ہے سمٹ پائے

تو لے جانا

مجھے جانے کی جلدی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.