فرضی حقیقت ، ابتدا سے آ ج کل ، انشے سیریل ، اٹھائیسواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

فرضی حقیقت ، ابتدا سے آ ج کل ، انشے سیریل ، اٹھائیسواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ڈائننگ ہال کی کھڑکی سے دکھتا باغ کا منظر موسم بہار کی آمد کا اعلان کر رہا تھا۔ گذرگاہوں کے کناروں پر لگی پاکیزہ سفید پھولوں سے لدی بلیک تھارن جھاڑیاں۔ کیاریوں میں سر اٹھاتی رنگ برنگے پھولوں کی کھلتی نازک کلیاں۔ وقفے وقفے سے لگے لہلہاتے پیلے ڈیفوڈلز کے جھنڈ۔ تازہ سبز پتوں سے ڈھکے تناور درختوں کی قطاروں میں جابجا دکھتے پھولوں سے لدے چیری بلاسم۔ دھیرے دھیرے سرکتی ناشتے کی قطار میں ہم سب مینیو ٹیبل پر سرو کی ہوی چیزوں میں سے پسند کی چیزیں پلیٹوں میں ڈال رہے تھے۔ سکریمبلڈ اور تلے ہوئے انڈے ، ویجیٹیرین ساسیجز ، پیش براؤن آلو کے قتلے ، بیکڈ ٹماٹر ، مشروم ، کروزوں ، توس ، مکھن ، جیم اور چھتے سمیت منفرد انداز میں پیش کیا گیا تازہ شہد ۔ ساتھ ہی چائے اور کافی کا انتظام بھی۔ ٹیبل پر بیٹھے تو میں نے پروف سے پوچھا۔ فرضی حقیقت سے آپ کی کیا مراد ہے؟ بولے۔ اس سے مراد نہ صرف کسی فرد کا غیرموجود حقیقت کو تصور میں لانا ہے۔ بلکہ بہت سے انسانوں کا اجتماعی طور پر اسے سچ قبول کر لینا بھی۔ گویا ہم انسان آپس میں مل کر کسی غیر موجود خرافات کو بُن بھی سکتے ہیں اور اس پر ایک ساتھ یقین بھی کر سکتے پیں۔ جیسے بائبل میں موجود کاینات کی تخلیق کی کہانی۔ یا آسٹریلوی ابوریجنز باشندوں کے فطری قوانین کے بارے میں گھڑے ہوے جادوئی قصے۔ یا جدید ریاستوں میں قوم پرستی کا تصور۔ یا کاغذ کے کرنسی نوٹوں کے طاقت ور ہونے جیسی خرافات پر ہم سب کا مشترکہ یقین۔ لیکن ہم انسان ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ذن نے پوچھا۔ پروف اورنج جوس کا گھونٹ لیتے ہوے بولے۔ اس طرح کی فرضی حقیقتوں کا بڑی تعداد میں لچکدار طریقے سے قبول کر لینا ہمیں بڑے پیمانے پر باہمی تعاون کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ ہی وہ طاقت ہے جس نے ہمیں اس زمین پر دیگر جانوروں کے مقابلے میں ممتاز اور بالآخر حکمران بنایا۔ لاکھوں ، کروڑوں بلکہ اربوں اجنبیوں کی ایک دوسرے سے تعاون کی طاقت۔ کیونکہ وہ کسی فرضی حقیقت پر مشترکہ یقین رکھتے ہیں۔ ایمیزون اور ای کامرس کی فرضی حقیقت پر ہمارا مشترکہ اعتماد ہمیں ان گنت اجنبیوں کے ساتھ عالمی تجارت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ تم دوکان پہونچ کر کسی اجنبی کو کاغذ کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں تھماتے ہو اور وہ تمہیں ایک درجن کیلے۔ اس تعاون کی بنیاد ہے کاغذ کے ٹکڑے کی فرضی حقیقت پر مشترکہ اعتماد۔ جیک بولا۔ لیکن آپس میں تعاون تو جانور بھی کرتے ہیں۔ کہنے لگے۔ یہ سچ ہے کہ چیونٹیاں اور شہد کی مکھیاں بھی بڑی تعداد میں ایک ساتھ کام کر سکتی ہیں، لیکن وہ ایسا کسی لچک کے بغیر جبلی مجبوریوں کے زیر اثر کرتی ہیں۔ وہ حالات کے تبدیل ہو جانے کی صورت میں اس تعاون کی نوعیت کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ دیگر جاور مثلاً بھیڑیے اور چمپینزی چیونٹیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ لچکدار طریقے سے آپس میں تعاون کرتے ہیں، لیکن وہ یہ تعاون صرف ان کے ساتھ کر سکتے ہیں جنھیں وہ زاتی طور پر جانتے ہوں۔ یوں یہ تعاون بہت کم ساتھیوں کے ساتھ ممکن ہوتا ہے۔جبکہ ہم سیپینز فرضی حقیقتوں مثلا سیاست ، قومیت ، مزہب ، اور معیشت پر مشترکہ اعتماد کے باعث بے شمار اجنبیوں کے ساتھ انتہائی لچکدار طریقے سے تعاون کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔ جاری ہےSHOW LESS

Leave a Reply

Your email address will not be published.