کہانی ، ابتدا سے اج کل ، ستایسواں انشا ، شارق علی

کہانی ، ابتدا سے اج کل ، ستایسواں انشا ، شارق علی

کیمرج کا ریلوے اسٹیشن دیکھنے کی چیز ہے۔ ہم پروفیسر حراری کا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں اوکسفورڈ سے لندن اور وہاں سے اٹھ بجکر دس منٹ پر یہاں پہونچنا تھا۔ سردیوں کی اس گھنی رات میں اسٹیشن کی حسین عمارت زرد روشنیوں کے پر اسرار دھندلکوں میں بے حد سنجیدہ دکھای دیتی تھی۔ اس عمارت کو 1845 میں سینکٹن ووڈ نے ڈیزائن کیا تھا۔ یہ تب ہی سے ایسٹرن کاؤنٹیز ریلوے کا مرکزی اسٹیشن ہے۔ اس خوبصورت عمارت کے سامنے نءی تعمیر شدہ کھانے پینے اور دیگر ضروریات کی دکانیں اور سہولیات ہیں۔ چشم تصور میں اس کی اولین تعمیر کو لانا ذرا مشکل ہے۔ پیلے رنگ کی اینٹوں سے اطالوی انداز میں تعمیر شدہ پورٹیکو اور پندرہ محرابوں کے داخلی دروازے کے ساتھ بنی عمارت جس میں اب خاصی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ پروفیسر حراری پلیٹ فارم سے باہر آئے تو ان کا پرتپاک استقبال ہوا ۔ علیک سلیک کے بعد ہم رات کے کھانے کے لیے سامنے موجود سب وے ریسٹورنٹ میں جا بیٹھے ۔ ذن نے پوچھا۔ آپ کے اس کورس کا مختصر تعارف؟ کہنے لگے۔ یوں سمجھ لو کے کبھی کلاس روم اور کبھی باہر چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے ہم انسان اور تہذیب کے معلوم تاریخی سچ پر مبنی ایک کہانی میں سے ایک ساتھ ہو کر گذریں گے۔ یہ دلچسپ اور حیرت انگیز کہانی کءی لاکھ سال پہلے ہومینڈ کی دنیا کے اسٹیج پر پہلی بار آنے سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا سلسلہ مستقبل کے ایک امکان تک پہونچتا ہے۔ اس خطرے کا امکان جب مصنوعی طور پر ہماری ہی تخلیق کی گئی مافوق الفطرت نسل اور ایجادات ہم جیسے انسانوں کی آیندہ نسلوں کے خاتمے کا آغاز بن سکتی ہیں۔ تین ہفتے تو بہت طویل ہوتے ہیں کسی کہانی کے لیے۔ جیک نے مزید وضاحت چاہی۔پروف بولے۔کہانی کے دوران ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ کس طرح ہماری تخیلاتی حقیقتیں تخلیق کرنے کی صلاحیت دوسری نسلوں پر ہمارے غلبے کا باعث بنیں۔ ہم شعوری , زرعی اور سائنسی انقلاب کے مرحلوں سے کیسے گذرے۔ سامراجیت، سرمایہ داری، اور صنعتی انقلاب نے ہماری زندگیوں کو کیسے متاثر کیا۔ ہماری نسلوں پر ان کے منفی یا مثبت دیرپا اثرات کیسے مرتب ہوے ۔ اور کہانی کا اختتام؟ میں نے پوچھا۔ کہنے لگے بالآخر یہ کہانی ایک اہم سوال پر ختم ہوتی ہے ۔ ہم انسان اپنے مستقبل کو کیا شکل دینا چاہتے ہیں؟ ہم بالآخر کیا بننا چاہتے ہیں؟ کیونکہ صحیح سوالات پوچھنا صحیح جوابات تلاش کرنے سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔۔۔۔ جاری

Leave a Reply

Your email address will not be published.