کہانی کار ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، چھبیسواں انشا ویلیوورسٹی

کہانی کار ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، چھبیسواں انشا ویلیوورسٹی


پروفیسر اقبال احمد ہم سے رخصت ہو چکے تھے۔ لندن سے میڈنگلے ہال واپسی ہوی تو اگلے تین مہینے بے حد مصروف گذرے۔ برطانیہ کی ٹھیک ٹھاک سردی اور سورج نکلنے کے مختصر اوقات۔ زیادہ تر اندھیرے کے افسردہ ماحول میں تقریبا روزانہ ہی یونیورسٹی کا چکر لگتا۔ اسائنمنٹ کی ڈیڈ لائن کی تلوار مسلسل سر پر لٹکی رہتی۔ تحقیق اور لکھنے لکھانے کا انتھک کام جاری رہتا۔ مڈ ٹرم اسیسمنٹس ختم ہوے تو سب نے سکون کا سانس لیا۔ فرصت کی ایک شام جب جم سے واپسی پر زن ، جیک اور میں کافی لاونج میں پہونچےتو سایکلو نے خبر دی۔ پروفیسر ایوال نوح حراری تین ہفتے کا ایک کورس کروانے کے لیے کیمبرج ا رہے ہیں ۔ ان کا قیام یہیں میڈنگلے ہال میں ہمارے ساتھ ہو گا۔ ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اہلکس جو ساتھ ہی بیٹھا تھا ہمیں اتنا ایکسائیٹڈ دیکھ کر بولا ۔ کون ہیں یہ صاحب؟ ذن نے جواب دیا۔ یروشلم یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر اور عالمی شہرت یافتہ مصنف۔ جیک بات بڑھاتے ہوئے بولا۔ ملو گے تو ان کے گرویدہ ہو جاؤ گے۔ ان کی گفتگو کا انداز ایک ایسے راوی کا سا ہوتا ہے جو انسانیت اور انسانی تاریخ کو کچھ فاصلے سے لیکن بغور دیکھ رہا ہو۔ وہ سب لوگ ان کی گفتگو دلچسپی سے سنتے ہیں جو انسان اور معاشرے کے ارتقاء ، تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو یہ جاننا چاہتے ہیں کے انسانیت موجودہ صورتحال تک کیسے پہونچی۔ وہ انسان کی کہانی سناتے ہوئے حیاتیات ، تاریخ اور معاشیات کے تصورات اور تحقیق کو حسب ضرورت استعمال کرتے ہیں۔ انتہای خوشگوار اور دلچسپ انداز میں۔تم اگر انسان کی کہانی کو نئے انداز میں دریافت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو تو ان کی باتیں ضرور سننا۔ ان کی تحریریں ضرور پڑھنا۔ ایسا کرنے سے تم آج کی دنیا کو بالکل نئے انداز میں دیکھنے لگو گے۔ مثلآ ان کا کہنا ہے کہ ہم انسان اس زمین پر معلوم تاریخ کی سب سے کامیاب مخلوق ہیں۔ اس کامیابی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم تجریدی خیالات تخلیق کر سکتے ہیں۔ ان پر بحث کر سکتے ہیں۔ دوسرے جانوروں میں مذہب، آزادی، یا صنعت جیسی چیزوں کے تصورات موجود نہیں ہوتے۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.