ایک لڑکی سے فہمیدہ ریاض

ایک لڑکی سے

فہمیدہ ریاض

سنگدل رواجوں کی

یہ عمارتِ کُہنہ

اپنے آپ پر نادم

اپنے بوجھ سے لرزاں

جس کا ذرّہ ذرّہ ہے

خود شکستگی ساماں

سب خمیدہ دیواریں

سب جُھکی ہُوئی کڑیاں

سنگدل رواجوں کے

خستہ حال زنداں میں

اِک صدائے مستانہ!

ایک رقصِ رِندانہ !

یہ عمارتِ کُہنہ ٹُوٹ بھی تو سکتی ہے

یہ اسیر شہزادی چُھوٹ بھی تو سکتی ہے

یہ اسیر شہزادی….!

جبر و خوف کی دُختر

واہموں کی پروردہ

مصلحت سے ہم بستر

ضعف و یاس کی مادر

جب نجات پائے گی

سانس لے گی درّانہ

محوِ رقصِ رِندانہ

اپنی ذات پائے گی

تُو ہے وُہ زنِ زندہ

جس میں شعلہ روشن ہے

جِس کی رُوح آہن ہے

جِس کا نُطق گویا ہے

بازوﺅں میں قوّت ہے

اُنگلیوں میں صنّاعی

ولولوں میں بیباکی

لذّتوں کی شیدائی

عشق آشنا عورت

وصل آشنا عورت

مادرِ خُداوندی

آدمی کی محبوُبہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.