سننا سیکھیے ، جذباتی ذہانت کے چند اصول ، ٹک ٹوک اسکول ، شارق عل

سننا سیکھیے ، جذباتی ذہانت کے چند اصول ، ٹک ٹوک اسکول ، شارق علی

گفتگو کے دوران ہم سب کی کچھ ایسی عادات ہوتی ہیں جن سے ہم واقف نہیں ہوتے۔ کچھ ایسے جملے جو ہم عادتاً بولتے ہیں۔ اگر آپ استاد ہیں تو آپ کے طالبب علم یہ جملے خوب پہچانتے ہوں گے۔ امکان یہ ہے کہ وہ ان کی نقل بھی کرتے ہوں۔ ذہانت یہ ہو گی کے ہم خود اپنی گفتگو کو سننا سیکھیں۔ ایسے جملوں سے واقف ہوں۔ ان کے منفی اثرات سے بچنے اور انہیں مثبت بنانے کی کوشش کریں۔ مثلاً ہم میں سے بعض یہ کہتے ہوں گے کہ ” میں سمجھتا ہوں کے آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ”  یا ” میں جانتا ہوں کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں” اگرچہ اپنے خیال میں ہم یہ بات مخاطب کی ہمدردی میں کہ رہے ہوتے ہیں لیکن دراصل ایسے جملے دوسرے شخص کو اپنے چیلنج یا مسئلہ کو بیان کرنے کے لیے مدعو نہیں کرتے۔ ان کے دل کی بات دل ہی میں رہ جاتی ہے۔ یہ بات منفی نتایج پیدا کر سکتی ہے۔ اگر ہم یہ جملے بات چیت کی تکمیل اور گفتگو کے اختتام پر ادا کرتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔ لہذا ایک آپشن یہ بھی ہو سکتا ہے کے “میں سمجھتا ہوں”  کے بجاے  ہم یہ کہنا سیکھ لیں کے  ” میں سن رہا ہوں” یا یہ کہ ”  میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں؛ براہ کرم تھوڑا اور بتائیں۔” میری راے میں خاموش رہ کر دوسروں کو غور سے سننا اور ان کے احساسات کو قبول کرنا ، ان کے نکتہ نظر کو سمجھنا ہی اصل زہانت ہے۔ ایسا رویہ پرخلوص اور کارآمد گفتگو اور پایدار تعلقات کا خیرمقدم کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.