چھوڑ دینا ، جذباتی ذہانت کے چند اصول ، ٹک ٹوک اسکول ، شارق علی

چھوڑ دینا ، جذباتی ذہانت کے چند اصول ، ٹک ٹوک اسکول ، شارق علی

ضروری ہو تو چھوڑدینا سیکھیے۔ یہاں بات بلا سوچے سمجھے اور مایوس ہو کر جلد بازی میں ادھورا چھوڑنے کی نہیں ہو رہی۔ بلکہ غیر جزباتی ہو کر اور مکمل سوچ و بچار کے بعد درست اور جراتمندانہ فیصلے کی ہو رہی ہے۔ چھوڑ دینا کسی کے لیے بھی آسان نہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں کسی کام یا رشتے کے تسلسل کو ادھورا چھوڑ دینا عمومآ منفی جذبات سے منسلک ہوتا ہے۔ لیکن جذباتی طور پر ذہین لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ بعض صورتوں اور حالات میں چھوڑدینا ہی سب سے بہتر آپشن ہوتا ہے۔ یہ بات سمجھنا اس لیے مشکل ہے کیونکہ ہم یہ سن کر بڑے ہوتے ہیں کہ چھوڑدینے والے کبھی نہیں جیتتے۔ یاد رکھیے ہمت ہارنا اور بات ہے اور سوچ سمجھ کر اور زمینی حقائق جان کر دور اندیشی اختیار کرنا دوسری بات۔ صورتحال کے مطابق ہمارا جواب کبھی ہاں اور کبھی نہیں ہو سکتا ہے لیکن فیصلہ خلا میں چھوڑدینا اخلاقی اور عملی لحاظ سے مناسب نہیں۔  بعض اوقات ہم پر واضح ہوتا ہے کہ ہمیں ڈوبی ہوی لاگت کا سامنا ہے۔ اب اس رشتے میں کوی خلوص باقی نہیں رہا۔ نہ ہی اس کی واپسی کا کوی امکان ہے۔ لیکن ایک خوف ہمیں خلا میں رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ جزباتی طور پر زہین لوگ کسی ایسے کاروباری خیال کو سمیٹ دینے سے نہیں جھجھکتے جو زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہ ہو۔ ایسے میں چھوڑ دینا ناکامی کی علامت نہیں۔ بلکہ یہ نئی کامیاب شروعات کی جانب پہلا قدم ہے۔ مثبت اور منفی دونوں امکانات تسلیم کرنے کے لیے جذباتی ذہانت اور بہادری کی ضرورت ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.