قبرص کا زینو ، پہلی بات ، سٹویک فلسفہ

فرض کیجیے آپ کسی ویرانے میں ہوں۔ گھر سے ہزاروں میل دور۔ آپ کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہ ہو تو کیا آپ مایوسی کا شکار نہ ہوں گے؟ اپنے آپ کو بدقسمت نہ سمجھیں گے؟ شاید ہم میں سے بیشتر ایسا ہی محسوس کریں۔ لیکن قبرص سے تعلق رکھنے والے زینو کے لیے ایسی صورتحال سوچ میں انقلابی تبدیلی کا باعث بنی تھی. وہ ایک امیر تاجر تھا اور تجارتی مال سے لدا اس کا جہاز یونان  کے ساحل پر لنگر انداز ہونے سے پہلے ڈوب گیا تھا۔ کرنے کو کچھ نہ تھا. تو اس نے ایتھنز کے کتب خانے کا رخ کیا۔ وہ سقراط کی تحریریں پڑھ کر اور زاتی غور و فکر کے بعد زندگی کی نئی حقیقتوں سے واقف ہوا۔ پھر اس نے اپنے طرز فکر کی تعلیم ایتھنز میں اپنا اسکول قایم کر کے دینا شروع کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.