سماج سدھار ، آٹھویں بات ، سٹویک فلسفہ

سٹویک فلسفی سینیکا غلاموں سمیت تمام انسانوں کو برابری کے حقوق دینے کا حمایتی تھا۔ یہ فلسفہ سماج سے بے نیاز ہونے کی تلقین نہیں کرتا بلکہ اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ صرف شخصی خوبیوں کا حامل با کردار شخص ہی مثبت سماجی تبدیلی لا سکتا ہے۔ گویا سماجی بہتری کے سفر کا آغاز زات کے اندر سے شروع ہونا چاہیے. اس طرز فکر نے نہ صرف  کئی صدیوں تک یونان اور روم کی تہذیب  پر  مثبت  اثر ڈالا بلکہ اس کے بعد کہ آنے والے ان گنت لوگوں نے ان تعلیمات سے فائدہ اٹھایا.  آج ہم میں سے بیشتر لوگ سٹویکس سے واقف نہیں لیکن آج بھی ہماری زندگیاں ان کی تعلیمات سے متاثر ہیں  اسلام، عیسائیت بدھ مت اور دیگر مزاہب میں اس طرز فکر کی جھلکیاں صاف دکھائی دیتی ہیں .

Leave a Reply

Your email address will not be published.