سمجھدار باتیں، دوسرا انشاء، زندگی سکھاتی ہے، انشے سیریل، ویلیوورسٹی

سمجھدار باتیں ، دوسرا انشاء ، زندگی سکھاتی ہے ، انشے سیریل ، شارق علی ، ویلیو ورسٹی

What do we mean by Emotional maturity? Here are few characterstics

ہم سمجھ دار تب ہوتے ہیں جب کچھ باتیں ہماری سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ مثلا یہ کہ لوگوں کا برا رویہ بیشتر اوقات اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ وہ فطرتاً برے ہیں۔ بلکہ اس کے پیچھے ان میں موجود خوف اور پریشانی ہوتی ہے. تو گویا نہ تو وہ بدزات ہیں اور نہ ہی احمق۔ نہ ہی یہ دنیا بدزاتوں اور احمقوں سے بھری ہوئی ہے ۔  بلکہ یہ ایسے انسانوں سے بھری ہوئی ہے جو خوف اور پریشانی میں مبتلا ہیں اور ان کا کامیاب حل میسر نہیں۔ یہ جان لینے کے بعد ہم خود کو ہر معاملے میں صحیح اور مظلوم سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ حالات کو سفید اور سیاہ کی بجائے حقیقی رنگوں میں دیکھنا سیکھ جاتے ہیں۔ زندگی دلچسپ اور آسان ہو جاتی ہے. سمجھدار ہونا یہ ہے کہ ہم جان لیں کے ہمارے ذہن میں موجود خیالات دوسروں تک صرف لفظوں کی صورت میں پہنچتے ہیں۔ وہ خود بخود ہماری راے اور خواہش نہیں سمجھ سکتے۔ ہمیں اپنے ارادوں اور ضروریات کو بیان کرنا پڑے گا۔ بول کے یا لکھ کے۔ دوسری کوئی صورت نہیں جس سے وہ ہمارے دل کا حال جان سکیں. اگر ہم تحمل اور تہذیب کے ساتھ اپنا مدعا بیان کرنا نہیں جانتے تو ہمیں دوسروں سے یہ گلہ کرنے کا حق نہیں کہ وہ آخر کیوں ہماری بات نہیں سمجھتے۔ ہماری قدر نہیں کرتے. سمجھدار لوگ جانتے ہیں کہ وہ غلطی کر سکتے ہیں۔ اس لئے کبھی کبھار معذرت کر لینے یا معافی مانگ لینے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ اپنا اعتماد خود کو عظیم یا غلطیوں سے پاک سمجھ کر بحال نہیں رکھتے . بلکہ دوسرے انسانوں کی طرح انسانی کمزوریوں کے باوجود نیکی پر اپنا ایمان اور صحیح راستے پر چل کر پر اعتماد رہتے ہیں. وہ جانتے ہیں کہ ٹھوکر کھا کر سیکھنا اور پھر اپنے راستے پر آگے بڑھ جانا بالکل نارمل سی بات ہے.  سمجھدار لوگ اپنے ماں باپ اور تربیت کی کمزوریوں کو معاف کرنا جانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ان کے بچپن کے دوران ان کے والدین زندگی کے سنگدل حالات اور مشکلات کی زد میں رہے ہوں۔ اور وہ تربیت اور شفقت ممکن نہ ہو پائی ہو جو سب بچوں کا حق ہوتی ہے ۔ ایسا کرنے سے وہ مایوسی اور غصے کے بجاے اپنے دل کو مہربانی اور محبت کی طاقت سے بھر لیتے ہیں سمجھدار لوگ اپنے دل سے قریب رشتوں کے حامل لوگوں سے کسی مشکل اور حل طلب مسلے  پر عجلت میں گفتگو نہیں کرتے۔ وہ تفصیلی فرصت  اور ٹھنڈے دل و دماغ کی درست کیفیت میں سنجیدہ مسائل کو طے کرتے ہیں. کوئی اگر دل دکھا دے تو ہفتوں یا مہینوں اسے بار بار یاد کر کے خود کو سزا نہیں دیتے. وہ دوسروں سے یہ توقع نہیں رکھتے کی وہ خود بخود  اپنی غلطی پہچان لیں گے۔ بلکہ سادہ اور صاف الفاظ میں اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔  اگر وہ غلطی تسلیم کر لیں تو پھر کھلے دل سے انہیں معاف کر دیتے ہیں… جاری ہے


Leave a Reply

Your email address will not be published.