مغل اور عوام ، ابتدا سے آج کل ۔ انشے سیریل ، تئیسواں انشا ، شارق علی ، ویلیورسٹی

چیسٹ نٹس ۔۔ چیسٹ نٹس۔۔ چھوٹے سے کیوسک پر چیسٹ نٹس کا ڈھیر لگاے اور کالے پین میں بھنتے ہوے چیسٹ نٹس کو لکڑی کے چمچے سے تیزی سے  الٹتا پلٹتا وہ گورا وقفے وقفے سے یہ صدا بلند کر رہا تھا۔ اٹلی کی سڑکوں پر چیسٹ نٹس کا بکنا تو اک عام سی بات ہے۔ لیکن اب یہ مرکزی لندن کی گزرگاہوں پر بھی مقبول ہو چکے ہیں۔ اطالوی روایت کے مطابق خوشحالی ، طویل عمری اور تازگی کی علامت۔ وہ ٹھیلے والا ایک دلچسپ کردار تھا گاہکوں کو تیزی سے نمٹاتے ہوے بھی اس کی خوش مزاجی برقرار رہتی۔ ارد گرد کے ماحول پر کسی سٹینڈ آپ کامیڈین کے انداز میں دلچسپ تبصرے جاری رہتے۔ میں زن کی دلچسپی بھانپ کر اس کے لیے چیسٹ نٹس خریدنے لگا تو بولا انجواے شاہ رکھ کھان۔ پھر بائیں آنکھ دباتے ہوئے بولا کبھی کھشی کبھی گم۔ میں جواب دیے بغیر مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔ گرم چیسٹ نٹس سے لطف اندوز ہوتے اور پیدل چلتے ہوے زن نے پروف سے پوچھا۔ برصغیر کے بٹوارے کے حوالے سے کچھ یادیں؟  بولے۔ میری کہانی لاکھوں مہاجروں سے زیادہ مختلف نہیں جو بٹوارے کی اندوہناک آزمایش سے گزرے۔  میرے والد کو سیاسی اور جائیداد کے تنازعے کے پس منظر میں اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب میں ان کی گود میں تھا۔ میری عمر صرف تین برس کی تھی۔ انہوں نے مجھے بچانے کے لیے اپنے جسم کو ڈھال بنایا تھا۔ میں بچ گیا مگر وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صوبہ بہار کے شہر سسرام میں میرا بچپن وہ زمانہ تھا جب ہندو اور مسلمان مل جل کر ایک ساتھ رہا کرتے تھے۔ بڑے شہروں میں قوم پرستی کی آگ بھڑک چکی تھی ۔ لیکن ہم ابھی نفرت کی اس لہر سے کچھ دور تھے۔ مجھے یاد ہے ہم مسلمان عید کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلتے تو ہمارے ہندو دوست باہر گلے لگانے کے لیے ہمارا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایک ہی خاندان میں بیک وقت مسلم لیگ اور کانگریس کے حمایتی موجود تھے۔ میرے بڑے بھائی کا سیاسی جھکاو مسلم لیگ کی طرف تھا جبکہ والدہ کانگریس کی حمایت کرتی تھیں۔ بٹوارہ ہوا تو بڑے بھای نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ والدہ نے آبائی گھر ہی میں رہنے پر اصرار کیا۔  میں بچپن میں والدہ کے رحجان سے متاثر ہو کر سات سال کی عمر میں گاندھی جی کے ساتھ ہندو مسلم مفاہمتی مارچ میں حصہ لے چکا تھا۔ اور چودہ سال کی عمر میں بڑے بھای کی دیکھا دیکھی گرینڈ ٹرنک روڈ پر پیدل سفر کر کے پاکستان چلا ایا تھا۔ ہم چلتے اور باتیں کرتے ہوے ٹاور برج کے قریب پہنچ چکے تھے۔ لندن کی عمارتی علامتوں میں سے ایک ہے یہ۔ اٹھارہ سو چھیاسی میں اس پل کی تعمیر شروع ہوئی۔  یہ آٹھ سال میں مکمل ہوا۔  اپنے زمانے میں یہ دریاے تھیمز پر جہازوں کے آنے جانے کے لیے کھلنے بند ہونے والا سب سے بڑا پل تھا۔ دو شاندار چوکور میناروں کی اونچی شاندار عمارتوں کو آپس میں ملاتی دو بیدل گزرگاہیں اوپر۔ نچلی منزل پر رواں دواں ٹریفک کے لیے بنی سڑک۔ بہتے دریا کی خوبصورتی کے ساتھ مل کر یہ سب ایک حسین منظر بن گیا تھا۔ مغلوں کے دور حکومت کے بارے میں آپ کی راے؟ جیک نے اچانک سے سوال کیا۔ کہنے لگے۔ بچپن ہی سے میری پسندیدگی اور جزباتی تعلق عوام سے رہا ہے، حکمران طبقے سے نہیں۔ مغلوں کے دور حکومت پر بھی میں اسی زاوئیے سے نظر ڈالوں گا۔ اس دور کی معیشت کا دارومدار کاشتکاری اور تجارت پر تھا۔ کچھ صنعت و حرفت بھی لیکن بہت زیادہ نہیں۔ یہ سچ ہے سترہویں صدی میں مغلوں کے زیر حکومت بر صغیر کی معیشت کا حجم آج کے اکیس ٹریلین ڈالرز کے برابر تھا۔ اس قدر دولت اور بھرپور طاقت زرخیز زمینوں پر کام کرنے والے محنت کش دہقانوں کی بدولت تھی۔ لیکن مغل بادشاہوں نے عوام کی فلاح کے لیے کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کیا۔ انہوں نے بہت سی مسجدیں ، باغات ، قلعے اور عظیم الشان محلات تو تعمیر کئے لیکن ان کے دور حکومت میں کسی قابل زکر عظیم درسگاہ یا ہسپتال کی تعمیر کے کوی ثبوت نہیں ملتے۔ وہ محلاتی زندگی اور جنگوں میں مصروف رہے۔ عوام سے ان کا رابطہ اور تعلق کمزور رہا۔ اس دور کے حکمرانوں میں سے کوی ایسا جس نے آپ کو متاثر کیا ہو؟ زن نے پوچھا۔ کہنے لگے۔ میرا آبائی شہر ہے سسرام۔ جہاں شیر شاہ سوری کی مصنوعی جھیل سے گھری آخری آرامگاہ اب بھی موجود ہے. یہ عمارت ہمارے گھر سے زیادہ فاصلے پر نہ تھی۔ بچپن میں شیر شاہ سے متعلق بہت سے قصے سنے۔ کس بہادری سے فرید خان نے تن تنہا اپنی تلوار سے شیر کو موت کے گھاٹ اتارا اور شیر شاہ سوری بن گیا۔ ہمایوں کو شکست دینے کے بعد شیر شاہ سوری نے صرف اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں قابل زکر کام کیے۔۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.