لندن ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، بیسواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

Receiving eminent scholar Professor Iqbal Ahmed in London is so exciting. A gentleman who has seen Tagore and have marched with Gandhi. Struggled with Algerian fighters in his youth and supported Kashmiris and Palestinian along with Noam Chomsky and Edward Saeed

کیمبرج سے آنیوالی اسٹینسٹڈ ایکسپریس جب لورپول اسٹریٹ کے سٹیشن پر رکی تو ہم نے اپنے بیک پیک کاندھوں پر ڈالے اور ٹرین سے باہر آ کر پلیٹ فارم کے قدم بقدم رش میں شامل ہوگئے۔ لمبی سی قطار جب ایک ایک کر کے پلیٹ فارم کے بیرئیر ڈنڈے کو ہٹا کر باری باری اسٹیشن کے مرکزی ہال میں داخل ہوئی تو ماحول صاف کہے دیتا تھا کے ہم لندن میں ہیں. بھانت بھانت کے لوگوں اور ملبوسات کا ادھر سے ادھر جاتا تیز قدمی ہجوم۔ انگریزی بولنے کے مختلف صوتی انداز، اعلانات کی آواز اور دیگر غیر ملکی بولیوں کا ملا جلا شور۔ لوگوں کی ایک دوسرے سے مہزب بیگانگی اور اپنی ہی دھن میں مگن جانے کس بات کے لئے  جلدبازی۔ ہال کے کنارے چھوٹی دکانوں پر بکتی آیس کریم ، ڈونٹ ، کافی اور دیگر لوازمات کی مہک۔ بلاشبہ ہم لندن میں تھے. کیمبرج کی پاکستانی اسٹوڈنٹ سوسایٹی نے ہم تینوں کے لندن میں پانچ روزہ قیام کا بندوبست کیا تھا۔ پروفیسر حرارری کے اوکسفورڈ چلے جانے کے بعد اب ہماری زمہ داری پاکستانی نژاد امریکی پروفیسر اقبال احمد کے لندن قیام میں ان کی مقامی رہنمای تھی۔ آج ہمیں ہیتھ رو ائیرپورٹ سے انہیں ریسیو کر کے طے شدہ ہوٹل تک پہونچانا تھا۔  میرا ، زن اور جیک کی رہایش کا انتظام ہوٹل کے قریب واقع اسٹوڈنٹس ہوسٹل میں کیا گیا تھا۔ مرکزی ہال سے گزر کر ہم انڈر گراؤنڈ اسٹیشن میں داخل ہوے اور سینٹرل لاین پکڑی۔ جب ہم نے ہولبورن پہونچ کر  ہیتھ رو جانیوالی پکاڈلی لاین پکڑ لی اور نسبتاً خالی ٹرین میں اطمینان سے بیٹھ گئے تو میں نے زن اور  جیک سے پروفیسر اقبال احمد کا تعارف کروایا. پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ پولیٹیکل سائنس دان، عالم اور ادیب اقبال احمد انیس سو تینتیس میں ہندوستان کے صوبے بہار میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ صرف چودہ سال کی عمر میں گرینڈ ٹرنک روڈ پر پیدل ہجرت کا سفر کر کے لاہور پہنچے تھے۔ وہ دانشوروں کے اس عالمی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو دنیا میں ایٹمی اور روایتی جنگ مخالف پالیسیوں کا حمایتی ہے .  اس نے  آزادی کی عالمی تحریکوں مثلاً فلسطین ، الجیریا اور کشمیری ازادی کی کوششوں کا  بھرپور ساتھ دیا ہے ۔ اس گروہ میں اقبال احمد کے علاوہ نیوم چومسکی ، ایڈورڈ سعید اور دیگر دانشور شامل ہیں. پروفیسر اقبال محض ڈیسک پر بیٹھ کر کام کرنے والے عالم نہیں بلکہ انہوں نے ایک بھرپور اور پر ماجرا زندگی گزاری ہے۔سات سال کی عمر میں رابندرا ناتھ ٹیگور سے جب وہ موت سے زرا پہلے بیمار تھے ملنے کا موقع ملا۔ گیارہ سال کی عمر میں گاندھی کے ساتھ حمایتی بچوں کے جلوس میں شریک رہے۔ نوجوانی میں الجیریا کے انقلاب میں عملی طور پر حصہ لیا۔ ویت نام جنگ کے خلاف طالب علموں کی تحریک کے پرجوش شریک کار رہے۔ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں ایڈورڈ سعید اور یاسر عرفات کے حمایتی اور مشیر رہے … جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *