ولیم کی اداسی، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، سولہواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

His poetry is an expression of his inner life and lyrical description of the beauty of the natural world. William Wordsworth defined poetry as “the spontaneous overflow of powerful feelings.” 

 ہم ایک گنگناتی ندی کو عبور کرتے لکڑی کے پل پر سے ہو کر گزرے تو کنارے کی چند بطخیں تیرنا ترک کرکے سبزہ زار پر پیدل چلنے لگیں۔ انہیں غالباً اپنے مرغوب کیڑے مکوڑوں کی تلاش تھی۔ سر سبز درختوں کے درمیان پگڈنڈی پر آگے پیچھے چلتے میں اور زن چند قدم پیچھے رہ گئے تھے . میپل کے پتوں سے چھن کر آنےوالی دھوپ جب زن  کے قرینے سے بندھے بالوں اوردمکتے ماتھے پر پڑتی تو اس کی حیران اور حسین آنکھیں ذرا سا بند ہونے لگتیں. میرا دل اس ساتھ کی مسرت اور مستقبل کے خدشات کی ملی جلی کیفیتوں سے پر تھا . شاید اس کا بھی. دو دشمن ملکوں کے شہریوں کا  ایک دوسرے کی رفاقت میں خوش رہنا گویا کوئی جرم ہو . جب ہم  قرینے سے کٹی ہوئی گھاس کے میدان سے گزر نے لگے تو سینٹ جانز کالج کی چھوٹی سی  محل نما عمارت کا مرکزی گیٹ نظر آنے لگا ۔ جیک نے کہا . برطانیہ کے مشہور قومی شاعر ولیم ورڈزورتھ کمبرج کے اسی سینٹ جونز کالج کا گریجویٹ تھا . اس نے اپنی شاہکار طویل سوانح عمری نظم پری لیوڈ میں اس کالج کا ذکر بھی کیا ہے . پروف بولے . سترہ سو ستاسی میں اس کالج سے تعلیم مکمل کر کے وہ یورپ اور الپس کی پاپیادہ سیاحت کے لئے روانہ ہوا تھا .  اسی سیاحت کے دوران اس کی ملاقات اینیٹ ویلون نامی فرانسیسی خاتون سے ہوئی تھی . پھر یہ رفاقت محبت اور شادی میں تبدیل ہوگئی ۔ اس دوران ان کی بیٹی کیرولین پیدا ہوی . انہی دنوں  برطانیہ اور فرانس کے درمیان پہلے سیاسی تناؤ بیدار ہوا اور پھر جنگ چھڑ گئی۔  مفلسی کی وجہ سے اسے اپنی بیوی اور بچی کو فرانس میں چھوڑ کر  اکیلے ہی برطانیہ واپس لوٹنا پڑا. جدائی کا یہ کئی برس طویل عرصہ اس کی زندگی اور شاعری میں اداسی کا بنیادی سبب ہے. جنگ اور دوری کے  باوجود جس حد تک ممکن ہو سکا وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے لیے رقم بھجواتا رہا۔ کیا عجب صورت حال تھی کہ وہ ایک قوم کا قومی شاعر تھا لیکن اس کی بیوی اور بیٹی ایک دشمن قوم کے شہری .  میں نے اس ذکر کی اداسی سے ہراساں ہو کر بات بدلی . اور اس کی باقی زندگی . بولے . وہ سترہ سو ستر میں انگیلنڈ کے بے حد حسین علاقے لیک ڈسٹرکٹ میں پیدا ہوا تھا اور اٹھارہ سو پچاس میں وفات پائی۔  وہ انگریزی ادب کے رومانوی دور کا شاعر ہے۔ عمر کے آخری حصے میں اسے انگلینڈ کا قومی شاعر تسلیم کر لیا گیا تھا ۔  حالانکہ وہ ایک خوشحال خاندان میں پیدا ہوا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی. لیکن اس نے کم عمری ہی میں والدین کی وفات کا دکھ سہا۔  وہ فطرتاً اداسی، حزن اور مناظر قدرت کے حسن کی طرف مائل تھا. جب ہم سینٹ جونز کالج کے اونچے سےخوبصورت مرکزی دروازے سے عمارت کے اندرداخل ہونے لگے تو  ساتھ لگی دیوار کے ساتھ شیشے اور لکڑی کے کام سے سجی کھڑکیوں کا دور تک چلتا چلا جاتا سلسلہ بہت رعب دار لگا ۔  مرکزی عمارت تو زرا پیچھے تھی لیکن تعمیراتی وقار اور دبدبے میں ویسی ہی شاندار۔ جیک نے بتایا.  پندرہ سو گیارہ میں تعمیر شدہ یہ کالج ہنری دی سیونتھ کی والدہ لیڈی مارگریٹ بیوفورٹ نے تعمیر کروایا تھا. زن نے شاید دھیمی آواز میں غالباً خود سے پوچھا. جنگیں آخر کیوں ؟ پروف بولے . بدقسمتی سے ڈھائی ہزار سالہ معلوم انسانی تاریخ جنگوں سے بھری پڑی ہے۔  قدیم زمانے میں ان جنگوں کا جواز موجود تھا۔  اور وہ تھا وسائل پر قبضہ. انسانی تاریخ میں بہت طویل عرصے تک یہ عالمی سیاسی اصول سچ ثابت ہوا کہ اگر دو قبیلے یا قومیں ایک دوسرے کے ساتھ سرحدوں پر نزدیک آباد ہیں تو اوسطاً ایک سال میں کوئی نہ کوئی ایسا جواز ضرور پیدا ہو گا کہ وہ حالت جنگ میں چلی جائیں….. جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.