.شعوری انقلاب ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، ساتواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی. COGNITIVE REVOLUTION, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 7

Somewhere between 70 to 40 thousand years ago, the cognitive revolution happened in human history. No one knows why? We started to accumulate knowledge to make changes in our behaviour without waiting for evolution.

چلیے نیچے کونفرنس ہال میں چلتے ہیں . آج وہاں پروفیسر حراری کا افتتاحی لیکچر ہے . موضوع ہے شعوری انقلاب . جی آپ کل رات کی دعوت کا احوال جاننا چاہتے ہیں؟ جی نہیں نہ وہاں نہاری تھی نہ حلیم . ذن داراصل ہندوستان کے صوبے گجرات کے علاقےکاٹھیاواڑ کے ایک چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھتی ھے۔ اس قصبے کی ابادی صرف پندرہ ہزار ھے۔ انہی میں سے ایک اس کے ابو بھی ہیں جو ایک ممتاز صنعتکار کی حیثیت سے جانے جاتے ھیں۔ اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ذن کےگھرانے کے رہن سہن میں گجرات کی ثقافت صاف جھلکتی ھے. ارے لیکچر تو شروع ہو چکا۔ پروف بولے . آج سے ستر سے تیس ہزار سال پہلے کے درمیان کہیں اچانک سے یا شاید نسبتاً آہستگی سے قدیم انسانی تاریخ میں ایک حیرت انگیز انقلاب برپا ہوا تھا ۔ جس کے نتیجے میں موجودہ انسان یعنی ہومو سیپینز کے علاوہ دیگر تمام قسم کے قدیم انسان جس میں ھم سے قریب ترین نیانڈراتھل بھی شامل تھے، صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لئے مٹ گئے تھے ۔ وہ انسان جو لاکھوں سال سے اس کرہ ارض پر بالکل ایک غیر اہم کردار بن کر رہ رہا تھا جیسے سمندر کے کنارے پڑی کوی جیلی فش۔  وہ اس شعوری انقلاب کے نتیجے میں اس زمین پر ایک فاتح کی حیثیت سے ابھرتا ہے . لیکن یہ انقلاب کیوں؟ یہ ایک بے حدد پر اسرار بات ہے۔ کوئی بھی اس کی وجہ نہیں جانتا. ماہرین مختلف اندازے ضرور لگاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی  اچانک ہونے والی جینیاتی تبدیلی جسے میوٹیشن کہتے ہیں کی وجہ سے مغز کی اندرونی ساخت اور وائرنگ میں بنیادی تبدیلی ۔ نیورون اور ساینیپسز کی نیے  انداز سے تنظیم نو ۔  سیکھنے ، یاد رکھنے اور سیکھی ھوی بات کو دوسروں تک کمیونیکیٹ کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت کا بیدار ہونا ۔ صحیح معنوں میں ایک شعوری انفلاب.  فرض کیجیے کہ ہماری ملاقات کسی ستر ھزار سال قدیم انسان سے ہو جاے تو اگرچہ وہ دیکھنے میں بالکل ہم جیسا ہی نظر آئے گا۔ لیکن یہ ملاقات بے سود رہے گی۔ نہ ہی ہم اس سے اپنی کہانی کہہ سکیں گے اور نہ ہی وہ اپنی کہانی ہمیں سمجھا جا سکے گا۔ اس وقت تک اس نے کسی شعوری کامیابی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ نہ کوئی حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا تھا۔ وہ محض زندہ تھا کسی اور جنگلی جانورکی طرح. باقی باتیں وقفے کے بعد. چلیے جناب کچھ دیر کے اس وقفے میں چاے کا ایک کپ ہو جاے .  ارے آپ رات کی دعوت کا ذکر اب تک نہیں بھولے . چلیے بتاے دیتا ہوں کے ہم نے کیا کھایا . بڑی سی گول تھالی میں ایک طرف رکھی گرم چپاتی اور باسمتی چاول کا خشکہ۔ چھوٹی چھوٹی کٹوریوں میں دال ، کڑھی، آلو گوبھی کی سبزی اور چکن کڑاہی۔  پودینے اور املی کی چٹنیاں اور آم کا اچار۔ ساتھ رکھا نمکین لسی کا گلاس۔ میٹھے میں کاجو کٹلی اور سوہن پپڑی۔ ۔ میں اور جیک تو انگلیاں چاٹتے رہ گئے. آیے لیکچر دوبارہ شروع ہو چکا ہے . پروف بولے . ستر ہزار سے تیس ہزار سال کے درمیان کسی مقام پر جب یہ شعوری انقلاب برپا ہو گیا تو ہومو سپینز نے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے۔ وہ تیز رفتاری سے افریقہ سے نکل کر مشرق وسطیٰ ، ایشیا اور یورپ کی سمت بڑھے ۔ حتیٰ کہ انہوں  نے سمندر عبور کیے اور آسٹریلیا تک جا پہنچے جہاں انسانی قدم پہلے کبھی نہ پہنچے تھے۔ انہوں  نے دیگر تمام قسم کے انسانوں کو آہستہ آہستہ پیچھے دھکیلا بلکہ ان کا وجود پوری دنیا سے ختم کر دیا۔ اسی عرصے میں انہوں  نے سوئیاں ایجاد کیں اور جانوروں کی کھالوں سے سردی سے بچاؤ کا لباس تیار کیا۔ کمان اور تیر بنائے ، کشتیاں بنائیں اور مشعلوں کا استعمال کیا۔ غاروں میں تصویریں بنائیں ، فلنٹ پتھر کے چاقو سے مجسمے تراشے . یہ بے حد حیرت انگیز کارنامے تھے۔گویا اگر اتفاقاً ہماری ملاقات سٹیڈل جرمنی کے غار میں انسانی شیر کے مجسمہ تراشنے والے اس مجسمہ ساز سے ھو جس نے بتیس ھزار پہلے یہ کارنامہ سر انجام دیا تھا تو یہ ملاقات بے حد کارامد رہے گی۔ ہم اس سے اپنے دور کی کہانی کہ سکیں گے . ممکن ہے غالب کی شعری عظمت سے اس کا تعارف کروا سکیں  اور وہ اپنے دور کے انسان کی فطرت سے متعلق زہنی تصویر ھمیں سمجھا سکے گا۔ سٹاڈل کے شیر انسان مجسمے کی درست وضاحت کر سکے گا جو انسانی شعوری انقلاب کی سب سے اہم دستاویز اور شہادت ہے۔  تجارت ، مذہب اور فنون لطیفہ کے آغاز کی واضح نشاندہی ہے . خواتین و حضرات . اگلا اور اہم سوال یہ ھے کہ اس شعوری انقلاب کے نتیجے میں زبان کے استعمال میں کیا ایسی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں پیدا ہویں جس نے ہم انسانوں کو اس کرہ ارض کی حکمرانی بخشی ؟….جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.