ساحل شب ، آٹھواں اور آخری انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ Beach at night, A GLIMPSE OF BARCELONA, INSHAY TRAVELOGUE, Final EPISODE 8

Walking along with the beach and enjoying the fresh air and sound of waves until it becomes vibrant and festive after sunset

ساحل شب ، آٹھواں اور آخری انشاء ، بارسلونا ایک جھلک ، انشے سفرنامہ ، ویلیوورسٹی ، شارق علی
ساحل بے حد حسین اور شفاف تھا .  دور تک پھیلی سنہری نرم ریت کے شانے سے دھیرے دھیرے سر ٹکراتی اور واپس لوٹتی نیلگوں لہریں . کنارے کے ساتھ دھوپ میں سنولاتی یا اتھلے پانیوں میں تیراکی کا لطف اٹھاتی مختصر ترین لباس کا تکلف کیے خوش بدن یورپی حسینائیں اور دیگر سیاحتی آبادی۔ ذرا فاصلے پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تیراکی کا براۓ نام لباس پہنے ریتیلے میدان میں والی بال کھیلتے ہوئے . کچھ ہماری طرح محض فلسفیانہ انداز میں ریت پر نیم دراز سستاتے ہوئے۔  مختصر مشاہدہ بھی یہ بات نظر انداز نہ کر سکتا تھا کہ ہسپانوی کلچر اس قدر آزاد خیال ہے کہ جس کا  تصور برطانیہ میں بھی ممکن نہیں. قریب ہی شاور لینے اور پیر دھونے کا انتظام تھا اور قرینے سے بنے واش رومز بھی . لیٹے لیٹے تھک گئے اور دنیا کی بے راہ روی بر غور کر چکے تو چہل قدمی کی نیت لئے اٹھ کھڑے ہوے . بارسلونا کی ساحلی تعمیرات انجینئرنگ کا کمال ہیں۔ انیس سو بانوے کے اولمپک کی تیاری کا حصہ یہ تعمیرات کنارے کے ساتھ کوئی دو کلومیٹر دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ کنارے کے ساتھ نیم دائرہ شکل میں خاصی طویل تین منزلہ پیدل گزر گاہیں تعمیر کی گئی ہیں. ہم ساحل سمندر کی ریت سے کچھ ہی اونچی تعمیر کی گئی پہلی منزل کی  پیدل گزرگاہ پر چلنے لگے . تقریبا آٹھ دس فٹ اونچی دوسری گزرگاہ بھی اس قدر کشادہ تھی کے نہ صرف بہت سے لوگ چہل قدمی اور جوگنگ کر سکیں بلکے ایک کشادہ سائکل ٹریک بھی بنا ہوا اور ساتھ ہی ریستورانوں اور دکانوں کی لمبی قطاریں بھی .  ہر شے آرام اور کشادگی کا احساس لئے ہوے  ۔ تیسری اور سب سے اونچی گزرگاہ اتنی بلند کہ دونوں جانب کے ساحلی میدانوں کو ملاتے ہوئے ایک پل بن کر  کشادہ مرینہ کے اُوپر سے گزرتی ہوئی .  مرینہ جس کے نیلے پانیوں میں سینکڑوں موٹر بوٹس اور لانچیں پارک تھیں اور ایک جانب سفید لکڑی کے تختوں سے بنی بوٹ کلب کی حسین عمارت تک آتے جاتے موٹر بوٹ سکوٹر مصروف دکھائی دے رہے تھے ۔ پل  کے ساتھ چھوٹے قد کے پھلوں سے لدے کھجوروں کے درختوں کی قطاروں سے جھانکتا مرکزی شاہراہ پر چلتا تیز رفتار ٹریفک بھی صاف دکھائی دیتا تھا . سارا منظر ایک بے حد کشادہ جیتی جاگتی حسین تصویر لگتا تھا.  سامنے گہرا نیلا سمندر، ایک جانب مرینہ میں پارک سینکڑوں سفید رنگ کی خوبصورت کشتیاں اور ارد گرد کے خوبصورت رستورانوں ، دوکانوں اور گزرگاہوں میں سیاحوں کی چہل پہل اور دوسری جانب مرکزی شاہراہ پر موجود جدید اور بلند و بالا عمارتوں کا حسین منظر۔ چلتے چلتے تھک گئے تو ایک آئس کریم شاپ کے سامنے بچھی کرسیوں پر بیٹھ کر جیلاٹو آئس کریم کا لطف اٹھانے لگے . مغرب ہوئی تو سورج سمندر سے پیچھے کی سمت ڈھلنے لگا لیکن غروب آفتاب کے رنگ سمندر کی سطح پر  دھیرے دھیرے بکھرتے رہے اور آئس کریم ہماری توجہ کی بے نیازی سے پگھلتی رہی .  پھر اس سارے منظر کو گزرگاہوں پر لگی خوبصورت روشنیوں کی جھلملاہٹ نے جگمگا دیا . دیکھتے ہی دیکھتے پورا واٹرفرنٹ روشنیوں میں نہا گیا. ریستورانوں میں شبینہ گہما گہمی انگڑائی لے کر بیدار ہونے لگی . ایک بے حد مہنگا  سوٹ پہنے فراری سے اترتے ادھیڑ عمر آدمی کو اپنے سے آدھی عمر کی میک اپ زدہ ایسکورٹ کے ہمراہ کسینو کی سمت جاتے دیکھا تو  ایک آہ بھری اور اٹھ کھڑے ہوے . کچھ دور چلے ہوں گے کہ روشنیوں اور موسیقی کے حسن سے آراستہ ریستورانوں کی قطار کے پاس سے گزرے . ایک سوٹڈ بوٹڈ دربان نے ہمیں اردو میں اپنے ریستوران میں آنے کی دعوت دے کر حیران کر دیا . اس انسیت کو بھلا کیسے ٹالا جا سکتا تھا . خوابناک نیلی رو شنیوں اور سفید پھولوں سے سجے رستوران میں سمندر کے نظارے سے آراستہ کھڑکی کے پاس تازہ پھولوں سے سجی خوبصورت ٹیبل پر شائستگی سے رکھی مسلّم گرلڈ مچھلی ، سیزر سلاد اور دیگر کھانوں اور مشروبات کی دل آویزی میں بارسلونا سے کل صبح رخصت ہو جانے کی اداسی بھی شامل تھی ….. اختتام

Leave a Reply

Your email address will not be published.