سائکل سوار ، گیارہواں اور آخری انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Cyclist , INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 10, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Every Dutch person averagely owns two bikes and there is 32,000 km of cycle paths in Holland

سائکل سوار ، گیارہواں اور آخری انشاء ،  ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی
پردہ سرکایا اور کھڑکی ذرا سی کھولی تو دھوپ کے ساتھ تازہ ہوا کے جھونکے نے کمرے کی خوابناکی رخصت کر دی . آج  ہالینڈ میں ہمارے قیام کا آخری روز ہے . فلائٹ شام چھ بجے کی ہے لیکن ہوٹل سے چیک آوٹ دوپہر بارہ بجے سے پہلے ضروری . پہلے تو اطمینان سے کمرے میں ہوف ڈورپ سے لاے کروزوں ، تازہ پھلوں اور کمرے میں موجود چاے اور کوفی سے ناشتے کا مرحلہ طے کیا گیا . پھر طویل رخصتی شاور کے بعد پیکنگ اور صحیح وقت پر چیک آوٹ اور سٹی ٹیکس کی ادائیگی سے فراغت پائی. سامان لگیج روم میں رکھوا کر ٹوکن لئے . ساڑھے تین بجے والی ائیرپورٹ شٹل بک کروائی اور ہوٹل سے کراۓ پر سائیکلیں لیں . ہدایات ملیں کہ صرف سائیکل ٹریک پر رہیں . ہیڈ فونز کا استعمال نہ کریں اور ہیلمٹ ضرور پہنیں . سائکلیں تو خوب لگتی ہیں یہ . تو پھر نکالیے اسٹینڈ سے اپنی نیلی اور میری سبز سائکل .  ہوٹل کے پیچھے وسیع مرغزار  کی سیر کو چلیں . جی نہیں آپ کا ان دو ڈچ لڑکیوں سے مسلسل قریب سائکل چلانا ٹھیک نہیں . بھائی وہ دونوں سہیلیاں ذاتی پکنک پر نکلی ہیں تیز دھوپ میں کیژول لباس پہنے . آپ بس میرے ساتھ سیر پر اکتفا کیجیے . وہ دیکھیے دائیں جانب کی جھیل میں کھلے کنول کے دل نشیں پھول .  دنیا بھر میں سائیکل سواری میں سر فہرست شہر تو کوپن ہیگن ہے لیکن ایمسٹرڈیم کا نمبر دوسرا ہے . یوں لگتا ہے سائکل سواری اس ملک میں رہنے والوں کی نفسیات کا حصّہ ہے . اس قدر مقبولیت کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کے پورا ملک اس مشغلے کے لئے ایک بڑا سا سر سبز اور سازگار میدان ہے . پہاڑی نشیب و فراز نہ ہونے کے برابر ہیں  . اب تو یہاں الیکٹرک سائکلیں یا  ای بائیکس بھی بہت مقبول ہو رہی ہیں .  خاص طور پر بوڑھے لوگوں میں . کیونکہ یہ آسان اور کم خرچ سفر ممکن بناتی ہیں.  ہے تو حیرت کی بات مگر سچ ہے کہ صرف ایمسٹرڈیم میں روزانہ دو سو سائیکلیں چوری ہوتی ہیں. اسی لئے بہت سے لوگ کام پر آنے جانے کے لیے پرانی سائیکلیں استعمال کرتے ہیں .  لیکن آپ کی ان سہیلیوں کی طرح چھٹیوں میں سیر کے لئے نئی نویلی سائکلوں پر نکلتے ہیں . دونوں جانب گھنے درختوں اور گھاس سے ڈھکے میدانوں میں جا بہ جا بکھری چھوٹی جھیلوں کے بیچ سے گذرتے اور  بل کھاتے سائکل ٹریکس بالاخر ہمیں ایک بڑی سی  جھیل کے ریتیلے ساحل پر لے آے ہیں. یوں لگتا ہے جیسے ہم سمندر کے کنارے آ پوھنچے ہوں .  غور و فکر کے لئے کس قدر حسین جگہ ہے یہ . ہو سکتا ہے اسپائی نوزا  نے ایسے ہی خوبصورت گوشوں میں بیٹھ کر انسانی مسرت اور اخلاقیات کے فلسفے  پر غور و فکر کیا ہو . کیا کہا . آپ متوجہ نہ تھے ؟ یورپی ساحل کی بلخصوص زنانہ چہل پہل سے آپ کی توجہ فلسفے کی طرف موڑنا کوئی آسان کام تو نہیں . اسپائی نوزا  کے پرتگالی یہودی بزرگ مذہبی منافرت سے بھاگ کر ہالینڈ میں آباد ہوے تھے .  وہ سولہ سو بتیس میں ایمسٹرڈیم  میں پیدا ہوا اور صرف سینتالیس سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گیا . پھر بھی اس کا شمار سترھویں صدی کے عظیم فلسفیوں میں ہوتا ہے . فکری انداز بے حد آزاد خیال تھا . جب اس نے کہا کہ کائناتی نظام خدا کے وجود سے جڑا ہوا ہے اور بائبل اور تورات صرف تمثیلی وضاحتیں ہیں تو یہودی عالموں بلکہ خاندان والوں نے بھی اسے صرف تیئیس سال کی عمر میں مذہب اور گھر سے بے دخل کر دیا . وہ شیشے کے عدسے گھس کر روزی کماتا رہا . اس کے خیال میں قدرت اور کائنات ہی وجود الہی ہیں. . گویا وہ وحدت الوجود کا حمایتی ہے. وہ کہتا ہے کائنات میں نہ خیر ہے نہ شر بلکہ محض وجود ہے.  یہ انسانی ذہن کی کارستانی ہے جس نے الفاظ کی مدد سے صحیح اور غلط کا تعین کر رکھا ہے . اس کی راے میں انسان اپنی فطرت کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہو تو وہ آزادی اور خوشی سے قریب تر ہو جاتا ہے اور جب وہ دوسرے لوگوں یا سماج  کے زیر اثر زندگی گزارتا ہے تو وہ حقیقی مسرت سے دور ہو جاتا ہے . مسرت اپنے بنائے ہوئے خیر کے تصور یا خدا سے قریب تر ہونے کے سوا کچھ اور نہیں . چلیے اٹھیے اب سائکلیں اٹھا کر واپسی کی فکر کریں . کیا کہا بھوک سے بے حال ہیں آپ . فکر نشتہ .  میں نے ہوٹل سے متصل بولنگ ارینا میں ایک گھنٹے کا بولنگ مقابلہ اور ساتھ ہی لنچ کا بہترین انتظام کر رکھا ہے آپ کے لئے . پھر ہوٹل پوھنچ کر سائکلیں واپس اور سامان اٹھا کر شٹل سروس میں ائیرپورٹ روانگی…….. اختتام

Leave a Reply

Your email address will not be published.