زبان سنبھال کے ، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، آٹھواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی GOSSIP LANGUAGE, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 8

پروفیسر حراری نے لیکچر جاری رکھا اور بولے . شاید آپ کو یہ سن کر حیرت ہو لیکن یہ سچ ہے کہ ہوموسیئپنس کی پوری دنیا پر حکمران رانی کی بنیادی وجہ بولنے کی بھرپور صلاحیت تھی ۔ رابطے کی کوئی نہ کوی بنیادی صورت تو بہت سے جانوروں میں بھی موجود ہوتی ہے . مثلا چمپینزی، وہیل ، ڈولفن حتیٰ کے چیونٹیوں میں بھی . اور تقریبآ دو لاکھ سال سے قدیم انسانوں یعنی ہومینڈس میں بھی زبان اپنی ابتدای صورت میں موجود تھی. مثلا فوکس پی ٹو جین جس کا تعلق گلے اور زبان کے چھوٹے عضلات کے خصوصی اور بھرپور استعمال سے ہوتا ہے. اور جس کی وجہ سے انسانوں کی غیر معمولی بولنے کی صلاحیت ممکن ہو پاتی ہے. وہ تو دو لاکھ سال پہلے ہی قدیم انسان میں ظاہر ہو چکی تھی. لیکن ستر سے چالیس ھزار سال کے درمیان ہومو سپیینز کی دماغی تنظیم میں کہیں کوئی ایسی تبدیلی واقع ہوئی کہ انہوں نے زبان کا استعمال کچھ اس نوعیت سے کیا جو اس سے پہلے کسی اور مخلوق کے بس کی بات نہیں تھی. حد بندیوں سے آزاد زبان کا ایسا لچکدار تخلیقی استعمال جو خیال کے لا محدود امکانات کو سمو سکے. وہ پانی پینے کے لئے کچھ دیر کو رکے. پھر بولے . اس انقلاب سے پہلے قدیم انسان جو زبان بولتے تھے اسے ماہرین “دریا کے پاس شیر” زبان کہتے ہیں۔ یعنی موجود اشیاء کے حوالے سے ایک دوسرے کو مطلع کرنا جیسے خطرات سے آگاہ کرنا وغیرہ۔ ہومو سپینز نے تاریخ میں پہلی بار زبان کا ایسا غیر معمولی استعمال کیا جو غیر موجود کو بھی حقیقت بنا دیتی ہے۔ ماہرین اسے “گپ شپ زبان” یعنی غیر موجود کے متعلق گفتگو کہتے ہیں. دریا کنارے شیر زبان میں دریا اور شیر دونوں موجود حقیقتیں ھیں اور خطرہ بھی موجود ۔ لیکن گپ شپ زبان ایک ایسی حقیقت تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے جسے نہ دیکھا اور نہ سنا اور نہ مادی لحاظ سے محسوس کیا جا سکتا ھے. اس کے باوجود اس ان دیکھی حقیقت پر ہمارا یقین اس قدر مستحکم ہو جاتا ہے کہ ہم اسے سچ ماں کر آپس میں تعاون اور مشترکہ جدوجہد پر راضی ہو جاتے ہیں . مثلاً سنہرا مستقبل ، آخرت میں جنت کا حصول ، جغرافیای سرحدیں اور قومیت پرستی . یہ فرض کرلی گئی حقیقتیں ہمارے باہمی تعاون کا سبب بن جاتی ہیں. ہم ملک کی سرحدوں کو حقیقت مان کر کے اس کی حفاظت کے لئے جان دینے اور جان لینے پر تیار ہو جاتے ہیں . غور کیجیے دریا پہاڑ اور درخت تو حقیقی وجود رکھتے ہیں لیکن باڑھ لگی سرحدیں ایک فرض کر لی گئی مضحکہ خیز بات کے سوا اور کچھ نہیں . بات صرف اتنی ہوتی ہے کہ ہم ان مفروضوں کو اجتماعی طور سچائی تسلیم کر لیتے ہیں. پروف نے سامنے پوڈیم پر رکھے کاغذات سمیٹے اور اپنے لیکچر کو اختتامی رنگ دیتے ہوے بولے . گویا دنیا پر حکمرانی کے لئے جو سب سے بنیادی اور عظیم کارنامہ ہم سپینز نے انجام دیا وہ گپ شپ یا علامتی زبان کا استعمال تھا. اور یوں قدیم انسان نے غاروں میں تصویریں بنایں۔ ایسے مجسمے بنائے جن کی حقیقی مثال موجود نہیں تھیں . جیسے بتیس ہزار سال پرانا سٹاڈل کا انسان شیر مجسمہ۔ اور یوں آرٹ اور مذہب کا آغاز کیا ، دیوتا تشکیل دیے. گپ شپ زبان کے پر اثر علامتی اظہار ہی کا فیضان ھے کے ہم سیپینز اجتماعی طور پر دوسرے تمام جانداروں کے مقابلے میں اس زمین پر سپر پاور بن کر ابھرے اور یہ حاکمیت اب تک قائم ہے . سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے بہت سے موجودہ مسائل اور ہماری بقا کو کچھ در پیش سنگین خطرات بھی اسی گپ شپ زبان کا شاخسانہ تو نہیں ؟ …. جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.