امیری اور غریبی، ابتدا سے آج کل ، انشے سیریل ، تیرہواں انشا ، شارق علی ، ویلیوورسٹی. The rich and poor divide, GENESIS, PODCAST SERIAL EPISODE 13. Valueversity. Shariq Ali

Is it God`s will? Or if the pie is static, and someone have a big part of it, then he/she must have taken somebody else’ slice?

ارادہ توکیمبرج کی گلیوں میں بے مقصد گھومنے کا تھا جس کا اپنا ہی لطف ہے۔  ساتھ ہی کوشش یہ بھی تھی کہ سرسری طور پر ہی سہی لیکن پروف کو یہاں کے مشہور تیرہ کالجوں میں سے کم از کم چند کے سامنے سےضرور گزارا جاے. قدیم طرز تعمیر کی نمایندہ عمارتوں کے حسن اور تاریخ کا اتنا حسین امتزاج کم ہی شہروں کے نصیب میں ہو گا جتنا کیمبرج کو حاصل ہے . کسی بھی سمت چلے جائیں ایک سے بڑھ کر ایک حسین طرز تعمیر. پھر دریا کے اس قدر قریب سے گزرنے سے اس کی گلیوں اور کوچہ و بازار کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے. کیم دریا عبور کرتے بیضوی پل سے گزر کر ھم تراشیدہ پتھروں کے فرش والی تنگ گلی سے گزرے۔  یہ گلی کنگز کالج کے کیتھڈرل کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی کوئی ڈیڑھ سو گز بعد ہمیں ایک کشادہ چوراہے تک لے آئی۔ یہاں سیاحوں کی چہل پہل قابل دید تھی۔ ھم کچھ دیر نکھری دھوپ اور چہل پہل کا لطف اٹھانے کے لئے کتھیڈرل کی دیوار کے سامنے بنے چھوٹے سے چبوترے پر بیٹھ گئے تو جیک نے پوچھا. قدیم سماج میں امیر اور غریب کی تقسیم کیوں کر پیدا ہوئی؟ بولے۔ یہ فرق تو تیس ہزار سال قدیم قبروں میں بھی دکھائی دیتا ہے ۔ موجودہ روس کے نواحی علاقوں میں بعض امیر قبریں نوادرات مثلا ہاتھی دانت کے تراشے ھوے ٹکڑوں اور نایاب جانوروں کی ہڈیوں کے ساتھ دریافت ہوی ہیں اور بیشتر عام غریب لوگوں کی قبریں محض زمین میں کھدے تاریک اور تنہا گڑھوں کی صورت۔ قدیم خانہ بدوشی انسانی سماج میں مساوات بلا شبہ آج سے زیادہ تھی۔ کیونکہ ملکیت کا تصور محدود تھا۔ زرعی انقلاب کے بعد ملکیت اور جائیداد کا تصور مستحکم اور برابری معدوم ہوتی چلی گئی. میری زمین ، میرے جانور ، میرا باغ میرے اوزار اور ہتھیار ۔ امیری غریبی کی یہ علامات  مستحکم ہوتی چلی گئیں. پھر یوں ہوا کے چھوٹے سے حکمران اقلیتی طبقہ نے طاقت اور دولت پر تسلط حاصل کرلیا اور اس کی نسل در نسل منتقلی اسی طبقے تک محدود ہو کر رہ گئی. دکھ کی بات یہ ہے کہ امیری غریبی کا یہ تصور وقت گزرنے کے ساتھ اس قدر مضبوط ہوتا چلا گیا کہ اسے سماج نے قانون قدرت سمجھ کر قبول کر لیا۔ صدیوں تک یورپ کے کئی ملکوں کی حکمرانی بادشاہ کے الوہی حق جیسے مضحکہ خیز خیال کی بنیاد پر قائم رہی.. پھر ہم سب چبوترے سے اٹھے اور انھیں یہاں کے خوبصورت چرچس کی جھلک دکھانے گلیوں میں دیر تک گھومے ۔ یونیورسٹی کرکٹ گراونڈ کے جوش سے متعارف کروایا اور کیم دریا کے ساتھ لگے حسین سبزہ زار میں بیٹھ کر مارکس اینڈ سپینسر کے میل ڈیل لنچ کا لطف اٹھاتے لگے تو  میں نے پوچھا. تو کیا امیری غریبی قسمت کا کھیل نہیں ؟. کہنے لگے . امیری اور غریبی قدرتی طور پر اپنا کوی وجود نہیں رکھتے۔ یہ مصنوعی حد بندیاں تو ھم انسانوں نے ایجاد کی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ بیشتر امیر لوگ امیر خاندانوں میں پیدا ہونے کی وجہ سے امیر اور غریب لوگ غربت کے ماحول میں پیدا ہونے کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں. بیشتر صورتوں میں اس  بے انصافی میں وقت گزرنے کے ساتھ مزید اضافہ ہوتا ہے کمی نہیں.. جب انسانی تہذیب  نے سرمایہ ایجاد کیا تو یہ صرف ایک زہنی انقلاب تھا. یعنی ھم انسانوں کی وجودی حقیقت میں کوی انقلاب برپا نہ ھوا تھا۔ لیکن اس ایجاد نے ھماری اجتماعی نفسیات پر بے حد گہرے اثرات مرتب کیے ہیں . آج بھی ہم دولت کی ہوس میں محض اس لیے مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ ہم دوسروں کو ایسا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں.. موجودہ زمانے میں بھی جب کہ پوری دنیا گلوبلائزیشن کے زریعےایک اکای بننے کی سمت میں گامزن ہے ۔ ایک اقلیتی طبقہ دنیا بھر کے وسائل پر قابض ہے.  جبکہ عوام کی اکثریت جو کئی بلین لوگوں پر مشتمل ہے بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے. اگر ہم انسان اس ساری تفریق کو اللہ کی مرضی اور قانون قدرت کا نتیجہ سمجھ کر قبول کر لیں تو اس سے بڑھ کر کوئی اور احمقانہ خیال ہو ہی نہیں سکتا۔….. جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.