گُل خان موچی، سیج ، انشے سیریل، سینتالیسواں انشا Gul Khan Shoemaker, SAGE, URDU / HINDI PODCAST SERIAL, EPISODE 47

One billion human beings in our present day world are suffering from the lack of basic necessities such as food, water, shelter, education, medical care, and security. Do we care?

گُل خان موچی، سیج ، انشے سیریل، سینتالیسواں انشا ، شارق علی
پیرس کے قیام کا تیسرا دن تھا۔ زیرِ زمین میٹرو کے اسٹیشن سے باہر آئے تو ۱۸۹۴ء سے قائم بے حد مہنگا اور عالمی شہرت یافتہ ڈپارنمنٹل اسٹور گلیریا لفایا تے ہمارے  بالکل سامنے تھا۔ یہ فرانس کی امیر ترین اور فیشن ایبل شاپنگ کی علامت اور نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ پروفیسر گِل فرانس سے کل ہی لوٹے تھے۔ ٹی ہائوس میں محفل گرم  تھی۔ بولے، شیشے کا بڑا سا دروازہ کھول کر داخل ہوے تو سوٹڈ بوٹڈ سیکورٹی اسٹاف نے مہذب تلاشی لی۔ فانوسوں سے آراستہ کوریڈور کے دونوں جانب شوکیسوں میں سجی بے حد مہنگی مصنوعات اور ان میں دلچسپی لیتے مقامی اور دُنیا بھر سے آے خریداروں کا رش  ۔ آرٹ ڈیکو انداز میں سجے اس ڈپارٹمنٹل اسٹور کا سب سے حسین اور شاندار حصہ رنگین شیشوں سے بنا وہ دلکش گنبد ہے جو اس کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ پیرس کا لفایاتے تین مختلف وسیع و عریض عمارتوں پر مشتمل ہے اور فرانس کے دیگر شہروں اور دُنیا کے دیگر ممالک میں موجود اسٹورز علیحدہ۔ کونسی شے ہے جو یہاں دستیاب نہیں۔ ڈھائی ہزار سے زیادہ برانڈز، گھرداری، آرائش، فیشن اور کھانے پینے کی اس قدر معیاری چیزیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔ صرف ونڈو شاپنگ کرنا ہو تو بھی گھنٹے نہیں پورا دن درکار۔ شاید دُنیا کی مہنگی ترین مصنوعات۔ چالیس پچاس ہزار یورو کی گھڑیاں تو شو کیس میں عام سجی دیکھیں۔ ایک طرف سجے ایک اٹالین جوتے کی قیمت ڈھائی ہزار یورو دیکھی تو خیال آیا کہ بس چند ہفتے پہلے ہی کی تو بات ہے جب میں کراچی میں موزے پہنے کسی ٹوٹی ہوئی دیوار سے اُٹھاے ہموار پتھر پر بیٹھا ہوا تھا اور گُل خان موچی پالش کے بعد چمکتے دمکتے جوتے میری طرف بڑھائے ہوے مسکرایا تھا۔ اُجرت پوچھی تو بولا بیس روپے۔ میں نے پچاس کا نوٹ ہاتھ پر رکھا تو شرما کر بولا ’’بنتے تو بیس ہی ہیں آگے تمہاری مرضی۔ دو گلیوں کے ملاپ کے کونے پر چار ٹیڑھی میڑھی لکڑیوں پر ٹکا پانچ بائی پانچ فٹ کے رفو شُدہ ترپال کے نیچے بالکل بیچ میں رکھا ایک فولادی فریم تھا جس پر ہر سائز کا جوتا چڑھایا اور مرمت کیا جا سکتا تھا . اس کے پیچھے بیٹھا ادھیڑ عمر گورا چٹا پشاوری ٹوپی لگائے نسوار کھاتا گُل خان موچی۔ ایک جانب ٹین کے ٹرنک میں رکھے ہر سائز اور رنگ کے برش، پالشیں، دھاگے اور چھوٹی بڑی کیلیں اور سامنے پتھر پہ بیٹھا گاہک۔ یہ تھی گُل خان موچی کی دُنیا جہاں وہ دن کے آٹھ گھنٹے اور سال کے دس مہینے رزقِ حلال کی جدوجہد میں گزارتا۔ باقی دو مہینے ملک میں بیوی بچوں کے ساتھ۔. میں گل خان موچی کی یاد ساتھ  لیے گیلریا لفایا تے سے واپسی پر سارے راستے یہ سوچتا رہا کے ممکن ہے گل خان اپنی دنیا کی سادگی میں خوش ہو . لیکن شعور مندی کیسے سکھی رہ سکتی ہے ۔ ایک ایسی دُنیا میں جس میں چھ بلین میں سے ایک بلین انسان غربت کی نچلی ترین سطح پر سو روپے روز سے کم میں گزارا کر رہے ہیں۔ جس کی بیس فیصد امیر آبادی کے قبضے میں دُنیا کے اسی فیصد قدرتی وسائل اور دولت ہے.  جس میں ہرسال ڈیڑھ کروڑ افراد بھوک اور افلاس کا شکار ہوکر مر جاتے ہیں اور اسی کروڑ کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی اور مشرقی افریقہ جہاں دُنیا کی آدھی آبادی بستی ہے،  آبادی کے بلا روک ٹوک اضافے اور سماج میں موجود افراد کی صلاحیتوں کو استعمال نہ کر سکنے کے نتیجے میں کمزور معیشت اور غربت کے بوجھ سے بے حال ہیں۔ ہماری اس دُنیا میں گیلیریا لفایاتے جیسے آراستہ امارت کدے اور لگژری شاپنگ سینٹر دلکش ہیں یا بد صورت؟ کیا یہ ہم انسانوں کی لاتعلقی اور سنگدلی کا مظہر نہیں؟— جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.