واٹس اپ اور گلی محلے ، فکر انگیز انشے Whatsapp and community service, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Whatsapp can be a very useful tool to collaborate and serve your community. Listen to this and think about it

واٹس اپ اور گلی محلے ، فکر انگیز انشے ، شارق علی
ہم جہاں بھی رہتے ہیں اس جگہ سے پیار ہونا قدرتی بات ہے . ہم میں سے ہر ایک فطری طور پر یہ چاہے گا کہ ساتھ رہنے والے ہمارے دوست، خاندان والے اور اردگرد کے لوگ مسائل سے آزاد ہوں اور بہتر زندگی گزار سکیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپنے گلی محلے سے محبت کا اظہار کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ پہلی بات تو یہ کہ ہم  جہاں کہیں بھی رہتے ہوں اس کے بارے میں لاتعلقی اختیار نہ کریں۔ اگر ہمارے سامنے کوئی مسئلہ ، کوئی ایسی صورت حال آتی ہے جس میں مددگار ہونا ممکن ہے تو ایسے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے ۔  اگر کوئی بوڑھا شخص وزنی سامان اُٹھائے چلا جارہاہے۔ یا بیبی چیئر سمیت کسی ماں کو سیڑھی اُترنے چڑھنے میں مدد کی ضرورت ہے، کوئی فقیر یا کوئی بیمار ہماری توجہ کا طالب ہے تو اُسے ہر گز نظر انداز نہ کیجئے، جو کچھ مدد فراہم کی جا سکتی ہے ضرور کیجئے۔ اپنے گلی محلے میں چکر لگاتے ٹھیلے والوں کو ، مقامی دکانوں کو، چھوٹے چھوٹے کام کرنے والے کارکنوں کو اپنا تعاون اور عزت دیجئے۔ مقامی دکانوں پر خریداری کو ترجیح دیجئے۔  اگر کوئی محلہ کمیٹی موجود ہے جو صفائی ستھرائی اور حفاظت کا اہتمام کرتی ہے تو اس میں ضرور شرکت کیجئے اور اگر نہیں تو آپ ایسی کمیٹی کے قیام کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ اپنے قریبی دوستوں سے رائے اور مشورہ لے سکتے ہیں۔  پھر مل بیٹھ کر یہ بھی سوچا جاسکتا ہے کہ بجلی اور پانی کے ناجائز اور غیر ضروری استعمال کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اپنے گلی محلے میں دوسرے لوگوں، خاص طور پر اپنے پڑوسیوں کی ضروریات سے آگاہ ہیں تو یہ بات کار اور موٹر سائکل کے استعمال کو زیادہ کار آمد بنا سکتی ہے۔ مثلاً کسی ایک اسکول میں جانے والے کئی بچے، باری باری ایک ساتھ ایک ہی گاڑی میں آ جا  سکتے ہیں۔  اپنے ارد گرد کے لوگوں سے واقف ہونا اُن سے ملنا، اُن کے ساتھ خوشگوار وقت گزارنا ، اُن کے مسائل اور اُن کی خوشیوں میں دیانت داری سے شریک ہونا بہت سے مسائل کا حل ثابت ہوسکتا ہے۔  تھوڑا سا مشاہدہ اور تحقیق آپ کو اپنے محلے کی ضروریات سے آگاہ کرسکتی ہے۔  ہوسکتا ہے کہ محلے کے کسی شخص یا خاندان کو خریداری کے لیے آپ کی مدد درکار ہو.  اگر آپ اس کی مدد کرسکتے ہیں تو ضرور کیجئے۔  محلے کی بہتری کے لیے کوئی سماجی تنظیم بنا نے میں بھی کوئی حرج نہیں.  آپ با آسانی محلے کا واٹس ایپ گروپ بنا کر  اظہارِ خیال اور مسائل کے حل کی تدابیر کرسکتے ہیں، ممکن  ہے کوئی ریٹائرڈ استاد محلے کے بچوں کو امتحان کی تیاری کروا سکے، کوئی ڈاکٹر طبی مشورے دے سکے، کوئی سرکاری افسر محلے کے مسائل کو حل کرنے میں مددگار ہوسکے۔  اگر آپ اپنی سوچ کو باہمی مدداور مسائل کے حل پر مرکوز کریں گے تو ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔  مل جل کر محلے کی بہتری کے اہداف متعین کیے جا سکتے ہیں۔  پھر آپ کوئی منصوبہ بندی تشکیل دے سکتے ہیں۔  جس میں تمام لوگوں کے تعاون سے محلے کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔ آپ یہ حکمتِ عملی بھی اختیار کرسکتے ہیں کہ ان مسائل کے حل کے لیے بارسوخ لوگوں اور مشہور شخصیات سے کیسے رابطہ قائم کیا جائے، اُن کی مدد کیسے حاصل کی جائے۔  واٹس ایپ گروپ پر منظم ہونے کے بعد ایسی ٹیمیں بنائیں جاسکتی ہیں جو یا تو صفائی ستھرائی پر یا آوارہ گھومتے جانوروں پر یا ضعیف اور معذور افراد کی مدد پر یا کسی بھی مسئلے کے اچانک سامنے آجانے پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکیں۔ پھر اسی واٹس ایپ گروپ کے حوالے سے گلی محلے کے لوگوں کے مل بیٹھنے کا بہانہ بھی ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ مثلاً حلیم کی کوئی دعوت، موسیقی یا تعلیمی نوعیت کا کوئی پروگرام، یا کوئی کھیل کود یا مینا بازار۔ جس میں نا صرف ایک دوسرے سے ملا جاسکتا ہے  بلکہ کسی خاص مسئلے کے حوالے سے چندہ بھی کیا جاسکتا ہے۔  ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جلنا اور یگانگت مسائل کے حل کی جانب پہلا اور اہم قدم ہے ۔ ہوسکتا ہے ایسی ہی کسی خوشگوار تقریب کے بعد  یہ فیصلہ ہو کہ ہم اپنے گلی محلے کی صفائی کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ اگر کوئی پبلک پارک یا بچوں کا میدان موجود ہے تو اس کی آرائش کا کیا بہتر انتظام کرسکتے ہیں۔ ان چند تجاویز کے ساتھ اب آپ سے اجازت۔  اپنا خیال رکھیے گا— شارق علی ، ویلیو ورسٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published.