موازنہ ، فکر انگیز انشے Comparison, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Comparing can create negative emotions such as animosity, resentment, and jealousy. Living with this attitude can compromise our happiness and sense of peace. Can we stop it?

موازنہ ، فکر انگیز انشے ، شارق علی
آج کل کے جدید دور میں موازنہ کرنے سے باز رہنا بہت مشکل ہے ۔ کسی حد تک تو یہ بات درست ہے کہ ہم دوسروں کے مقابلے میں بہتر ہونے کے لئے خود کو پرکھیں.  لیکن اگر ایسا کرنے میں ہم محرومیوں کی طرف زیادہ توجہ دیں اور اپنی زندگی کے مثبت پہلوئوں کو نظر انداز کر دیں تو ہمیں اپنے بارے میں ناخوشگواری کا احساس ہو گا . یہ بات آہستہ آہستہ نفسیاتی کمزوری کا سبب بنے گی. ایسے منفی موازنے سے خود کو روکنا بہت ضروری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہم موازنہ کرتے ہی کیوں ہیں؟ کہیں اس کی وجہ اعتماد اور خود احترامی میں کمی تو نہیں ؟ ذرا دیر کو  اپنے بارے میں اپنی رائے کو جانچئے ۔ کیا آپ خود کے بارے میں اچھا محسوس کرتے ہیں ؟ یا اچھا محسوس کرنے کے لیے ہمیشہ دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں؟  کیا  آپ کا  دوسروں سے موازنہ کرنے کا رُجحان مثبت ہے ؟ یعنی آپ اُن کی خوبیوں اور صلاحیتوں کو دیکھ کر اُن جیسا بننے  کی کوشش کرتے ہیں یا اُن کی زندگی کے مثبت پہلو آپ پر منفی اثرات مُرتب کرتے ہیں مثلاََ حسد یا  جھنجھلاہٹ ؟ بات سمجھنے کے لیے اگر آپ کو اپنی کیفیات قلمبند کرنا پڑیں تو ضرور کیجیے ۔ کوشش کیجیے کہ منفی موازنہ کے جذبات کی تہہ تک پہنچ سکیں ۔ ہو سکتا ہے آپ کو اپنے بچپن میں جانا پڑے ۔کیا آپ کو ہمیشہ اپنے بہن بھائیوں ، اپنے ہمجولیوں  سے موازنہ کر کے دیکھا گیا ؟ کیا آپ دوسروں کے مقابلے میں کم توجہ کی ذہنی کیفیت کا شکار رہے ہیں ؟ پھر ماضی سے آج میں آجائیے ۔ اپنی موجودہ زندگی اور اہلیت پر نظر کیجیے. ہر مثبت پہلو پر بغو ر نظر ڈالیے اور اسے بھی قلمبند کر لیجیے. وہ اہم کام جو آپ نے کیے . وہ دوستیاں جو آپ کو مُیسر آئیں ۔ وہ نعمتیں جو آپ کے ارد گرد موجود ہیں ۔ گویا زندگی کے وہ تمام پہلو جن کے لیے آپ شکر گزار ہو سکتے ہیں. یہ مثبت تجزیہ آپ کو خود سے  مہربانی کا رویہ مہیا کرے گا  ۔ زندگی کے قابو میں ہونے کا احساس دے گا  ۔ درست سمت متعین کرے گا  ۔ سوچ اور رویے میں تبدیلی کوئی آسان بات نہیں ۔ مگر یہ اہم ضرور ہے ۔ اسکی کُنجی خود ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ اگر ہم غورو فکر کے بعد عمل داری پر اور تبدیلی میں استحکام پر یقین رکھتے ہیں ۔ تو ہم ایسا کر سکتے ہیں ۔ سمجھ لیجیے کہ دوسروں کو اپنا آئیڈیل بنانا غیر حقیقی ہے ۔ کسی شخص کی کچھ خوبیوں کو اپنانے میں حرج نہیں لیکن مکمل طور پر خوبیوں کا مجموعہ کوئی بھی نہیں ہوتا . تقلید کے بجانے بہتر یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو مسلسل سنوارا جاے ۔اگر ہم اپنے حالات میں مثبت پیش رفت کر رہے ہیں تو پھر ہمیں کسی سے موازنے کی کوئی ضرورت نہیں. خود اپنے رویے اور سوچ کو اپنی اقدار کی کسوٹی پر پرکھیں ۔ ضرورت ہو تو درستگی اختیار کر یں.  یہ بہت تعمیری بات ہو گی . دوسروں کی صلاحیت کو تسلیم کرنے ان سے رہنمائی حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں . لیکن دیانت داری کے ساتھ خود اپنی اقدار کی کسوٹی پر پورا اترنا ہی اصل کامیابی ہے . سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حد سے زیادہ وقت گزارنا موازنے کے حوالے سے منفی اثرات مُرتب کر سکتا ہے۔ اپنے مخلص دوستوں،  رشتہ داروں اور ہم خیالوں سے تعلق برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کا مناسب استعمال ضرور کیجیے مگر حد سے زیادہ نہیں  . آپ سے اجازت ، اپنا خیال رکھیے گا. ——-ویلیو ورسٹی، شارق علی

Leave a Reply

Your email address will not be published.