منظم زندگی، فکر انگیز انشے Get organized, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

The lack of organization and personal management is one of the biggest stumbling blocks in a successful and happy life.  Let’s look for ways to organize ourselves

http://https://www.youtube.com/watch?v=THAM6_nyoWk&feature=youtu.be
منظم زندگی، فکر انگیز انشے ، شارق علی
اگر ہم ااکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت کم ہے اور مصروفیت زیادہ. آمدنی کم ہے اوراخراجات زیادہ تو ہمیں ایک منظم زندگی درکار ہے . اس جانب پہلا قدم یہ ہے کہ ہم ذہنی طور پر منظم ہوں. سب سے پہلے اس کڑوے سچ کی تلاش کریں کہ اس غیر منظم زندگی کا بنیادی سبب کیا ہے؟ کیا کچھ مخصوص لوگ اور مصروفیات ہمارا بہت سا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں؟ یعنی زندگی میں موجود کوڑا کرکٹ کو پہچانا جاے . مراد یہ ہے کہ ایسی مصروفیات کی نشان دہی کی جا یے جو ہمارا وقت اور توجہ تو بہت لیتی ہیں لیکن مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کرتیں۔ اپنے کام پر بغور نظر ڈالیے ، اپنے مشاغل پر ، اپنے دوستوں، ملنے جلنے والوں پر اور مجموعی طور پر اپنے سوچنے کے انداز پر۔ پھر یہ آپ کی ہمّت پر منحصر ہے کے آپ اس کوڑا کرکٹ سے کس طرح اور کتنی جلدی چھٹکارا پاتے ہیں . اگلا قدم ہے خود کو منظم کرنا . کام یا گھریلو زندگی، آغاز کہیں سے بھی کیا جا سکتا ہے .اپنی مصروفیات کو منظم کرنے کے لئے کسی کیلنڈر ، ڈائری یا اگر اسمارٹ فون موجود ہے تو کسی پرسنل آرگنائزر ایپ کا استعمال بہت فائدہ مند ہوگا ۔ پہلے تواُس میں یہ درج کر لیجئے کہ آپ کی موجودہ مصروفیات میں کیا کچھ ضروری یا نسبتاً کم یا غیر ضروری ہے ۔ ضروری کاموں کو اُن کی مخصوص تاریخ کے ساتھ کہ جب تک اُنہیں ضرور مکمل ہو جانا چاہیے درج کر لیجئے۔. مثلاَ ڈاکٹر سے ملاقات ، دوست کی سالگرہ یا شادی میں شرکت وغیرہ . پھر اس بھرے ہوئے کیلنڈر کو بغور دیکھئے۔ ایک ہفتہ کے اندر آپ کی مخصوص مصروفیات کیا ہوتی ہیں؟ بیچ میں کتنی فُرصت مہیا ہے؟ آرام کا کتنا وقت ملتا ہے اور پھر ہر مصروفیت کا کارآمد ہو نا یعنی اُس سے مطلوبہ نتائج کا حاصل ہو نا ممکن ہوپاتا ہے یا نہیں؟ پھر توجہ دن بھر کی مصروفیات پر کیجئے۔ اس کے لئے پرسنل آرگنائیزر کا استعمال بہت کارآمد ہے . اگر آپ آرگنائیزر ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور اُسے دیکھنے اور اُس پر وقت ضرورت لکھنے کی عادت ڈال لیں تو یہ بہت فائدہ مند ہو گا ۔ روزانہ یا ہفتہ وارضروری کاموں کی فہرست بنائیے۔ کام کی نوعیت، وقفوں کا تعین اور کتنی مدت میں یہ کام خوش اسلوبی سے انجام پا سکتا ہے. پھر اپنے آرام، اپنے غوروفکر کے لیے بھی وقت نکالیے۔ بہت صاف اور سادہ الفاظ میں ہدایات لکھئے اور ہر کام مکمل ہو جانے کے بعداُسے نشان زد کیجئے۔ایسا کرتے ہوے آپ کی نظر سے وہ تمام مصروفیات بھی گزریں گی کہ جو آپ کو انجام دینا ہیں اور یہ اطمینان بھی ہو گا کہ آپ کیا کچھ کر چکے ہیں ۔ مصروفیات کی فہرست بالکل ایک ہی طرح روزانہ مرتب کیجئے کیونکہ کسی نظام کو باربار تبدیل کرنا مناسب نہیں۔ یہ سیکھئے کہ کامو ں کو بار بار ملتوی کرنا ٹھیک نہیں بلکہ کام کو بروقت انجام دینا انتہائی ضروری ہے. اپنی توجہ کو اُس کام پر اور اُس کے لیے طے کیے ہوے وقت پر مرکوز رکھیے ۔ چاہے اس کے لیے بہت محنت اور تیزی سے کام کرنا پڑے ۔ بیچ میں ابھرتی ایسی تمام مصروفیات کو رد کر دیجئے جن سے آپ کی توجہ بھٹکے۔ ہر کام کو آرگنائیزر میں درج کرنا،پہلے پہل تو آپ کو فضول محسوس ہو گا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس عادت کے مثبت اثرات آپ کے منظم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ اگر دن کا آغاز اچھی نیندکے بعد جاگنے سے ہو، ایک صحت مند ناشتہ کیا جاے، پھر نہا دھوکر، مناسب لباس پہن کر، اپنے وقت پر، کام کے لیے روانہ ہوا جاے ، تندہی سے اپنا کام کیا جاے اور رزق حلال کمایا جاے تو ایسی زندگی بہت با وقار ہو گی. بہت کار آمد، کامیاب اور بے حد حسین ہوگی . آخر میں ایک اہم بات. اپنی زندگی اور اپنی ذات کو بے پناہ مصروفیت کے تشدد سے محفوظ رکھیے ۔ صرف اُس کام کے لیے حامی بھریئے جو آپ بجا طور پر انجام دے سکتے ہیں اور باقی تمام کام جو کوئی دوسرا شخص بہتر کر سکتا ہے۔ اُسے کرنے دیجئے۔ اپنے مزاج کو تکمیلیت پسند بنانے کے بجائے خود کو غلطیوں اور خامیوں کے لیے گنجائش دینا سیکھئے۔ اب آپ سے اجازت —– ویلیو ورسٹی، شارق علی

www.valueversity.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *