مطالعے کی عادت، فکر انگیز انشے Reading Habit, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

“To acquire the habit of reading is to construct for yourself a refuge from almost all the miseries of life.” — W. Somerset Maugham

مطالعے کی عادت، فکر انگیز انشے، شارق علی
اکثر لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ان کا کام ، تعلیمی یا گھر یلو مصروفیات اس قدر زیادہ ہیں کہ مطالعے کے لیے وقت ہی نہیں ملتا ۔ آج میں کچھ سادہ سے اقدامات کی نشاندہی کروں گا جن کی مددسے آپ زندگی کی ایک خوشگوار نعمت یعنی مطالعے کی عادت سے لُطف اندوز ہوسکتے ہیں. کسی بھی اور کام کی طرح مطالعے کے لیے بھی اندرونی جوش کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ تبھی میسر ہوگا جب ہم ایسے موضوعات پر کتابیں پڑھیں کہ جو ہمارے دل سے بہت قریب ہیں.  اگر یہ موضوعات آپ کے ذہن میں واضع نہیں تو کسی کتاب کی دوکان میں چلے جائیے اور کتابوں پر لکھے ٹائٹل اور اس کی پُشت پر درج مختصر تعارف کو بغور پڑھیے. یوں کتابوں کو اُلٹ پُلٹ کر دیکھنے کی عادت آپ کو اپنے پسندیدہ موضوعات سے روشناس کر دے گی.  آپ آہستہ آہستہ جان جائیں گے کہ آپ کو تاریخ، سیاسیات، سائنس، معاشیات یا ادب، کس نوعیت کی کتابیں زیادہ پسند ہیں اور آپ کس شعبے کے راستے سے اپنی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ انسانی اور سماجی صورتِ حال میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں تو شاید ادب پڑھنا آپ کے لیے مناسب ہو گا ۔ انسانی المیے، فتوحات خوشی اور غم کو سمجھنے کے لیے اور سچ کی صورتِ حال سے قریب تر ہونے کے لیے ادب کا مطالعہ بے حد مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔ لیکن حالات ِحاضرہ سے واقف ہونا بھی بے حد ضروری ہے اس لیے اخبار یا اخباری سُرخیوں کا مطالعہ یا  تازہ خبریں ضرور سنیں . اس سے آپ کو وہ بنیادی معلومات بھی حاصل ہوں گی جن کی مدد سے آپ کسی سنجیدہ گفتگو میں شریک ہوسکتے ہیں. اپنے مزاج یا رجحان کے مطابق شعبے اور موضوع کا تعین کیجیے لیکن جو بات اہم ہے وہ ہے مطالعہ کی عادت. اور اس موضوع پر اپنے خاندان والوں یا اپنے دوستوں سے اظہار خیال کرنا ۔ان کی رائے لینا، ان سے پوچھنا کہ ان کے مطالعہ میں کونسی کتابیں ہیں. یہ بات آپ کے جوش میں اضافہ کرے گی۔ گفتگو کے دوران اگر کسی دلچسپ کتاب کا ذکر آئے تو اُسے عاریتاََ مانگ لینے میں بھی کو ئی حرج نہیں ۔ اگر آپ کسی لائبریری سے واقف ہیں تو وہاں کی سہولیات سے بھرپور فائدہ اُٹھائیے ۔ اگر آپ کسی شاپنگ سینٹر میں گھوم رہے ہیں اور آپ کو کچھ فُرصت میسر ہے تو کتابوں کی دُکان کا ضرور چکر لگائیے.  نئی کتابوں سے نہ صرف آپ کی شناسائی میں اضافہ ہو گا بلکہ مطالعہ کے سلسلے میں آپ کے جوش میں بھی ۔ اگر آپ کمپیوٹر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں تو ایسی ویب سائیٹس آج کل بہت عام ہیں  جہاں سے آپ اپنی پسند کی کتابیں ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں اور بغیر کوئی رقم خرچ کیے ۔ ایک اور تجویز جو بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بہت زیادہ عام نہیں لیکن اُس کی ابتداء کی جا سکتی ہے اور وہ ہے ’’ بُک کلب کا قیام‘‘ ۔ یعنی کچھ ہم خیال دوست ، محلے دار یا ایک ہی ادارے میں کام کرنے والے یا تعلیم حاصل کرنے والے لوگ ۔ ہفتہ واری نشست کا اہتمام کر سکتے ہیں جس میں وہ باری باری اپنی پڑھی ہوئی کتابوں کا مختصر تعارف پیش کریں ۔ جس طرح ہم اپنی زندگی میں آرزوئوں کی فہرست بناسکتے ہیں بالکل اُسی طرح ہمیں اپنی زندگی میں اُن کتابوں کی فہرست بنانا چاہیے کہ جو ہم پڑھنا چاہتے ہیں ۔ اپنے دن بھر کی مصروفیت کے کسی مخصوص وقت کو مطالعہ کے لیے وقف کیجیے . مثلاً میں سونے سے ذرا پہلے کم از کم پینتالیس منٹ مطالعہ میں ضرور گذارتا ہوں ۔ ہو سکتا ہے آپ کو اپنے کام کے مطابق کسی اور وقت مطالعہ کی فرصت مہیا ہوتی ہو لیکن وہ وقت ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں بغیر توجہ ہٹائے آپ کا ذہن مطالعہ پر مرکوز ہو سکے۔ جب آپ پڑھیں تو پھر ڈوب کر پڑھیں. اپنی تمام ذمہ داریوں کو پڑھنا شروع کرنے سے پہلے نبھا لیجیے تاکہ جب آپ مطالعہ کر رہے ہیں تو توجہ کو مرکوز کر سکیں . آپ چاہیں تو اپنے فون یا کنڈل ڈیوائیس پر الیکٹرانک کتابیں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں.  ایک تو ہر جگہ بھاری کتابیں اُٹھا کر لے جانے کی ضرورت نہیں.  پوری لائبریری آپ کی جیب میں موجود ہے.  اور پھر یہ بے حد کم قیمت بھی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقا ت مفت مہیا ہیں ۔ ای بُک کے حوالے سے ایسے کئی ایپس مہیا ہیں جو آپ کے پڑھنے کی رفتار کو بے حد تیز رفتار بنا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ صرف انگریزی میں مہیا ہیں ۔ میں ذاتی طور پر تیز پڑھنے سے زیادہ غوروفکر کے ساتھ پڑھنا پسند کرتا ہوں لیکن یہ میرا ذاتی انداز ہے بعض لوگ تیزی سے پڑھ کر بھی مفہوم سمجھنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان چند تجاویز کے بعداب آپ سے اجازت ——- ویلیوورسٹی ، شارق علی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *