فوجی راج ، سامراج ، تیسرا انشا Military Rule, IMPERIALISM, INSHAY SERIAL, 3RD EPISODE

The local army was the right hand of British imperialists before independence and ruled in South Asia as the domestic imperialist power thereafter

فوجی راج ، سامراج ، تیسرا انشا ، ویلیوورسٹی ، شارق علی
تاج محل کیسا تھا ان دنوں ؟  میں نے بانو امی کے ہاتھ کا بنا لذیز سوجی کا حلوہ نگلتے ہوے اٹھلا کر پوچھا. بولیں . تاج محل ہمارے لئے کوئی عجوبہ نہیں بلکہ مستقل ساتھ کا احساس تھا . میرے لئے تو آگرے کا تاج محل کے بغیر تصور بھی ممکن نہیں . جب لوگ کہتے ہیں کہ اس کی عمارت کو خطرہ ہے تو مجھے لگتا ہے جیسے پورے ہندوستان کو خطرہ ہے . عمارت تو دلکش ہے ہی لیکن ہمارے  بچپن کی ساری حیرانی عمارت تک پوھنچنے سے پہلے ہی مغلیہ طرز کے حسین باغوں کو دیکھ کر شروع ہو جاتی تھی.  مزہ بھی بہت آتا کیونکہ ان باغوں میں ہمیں گھومنے بلکہ دوڑنے کی بھی خوب آزادی تھی. انہی باغوں میں بیٹھ کر گھر سے لا ے لذیز کھانے کھاے جاتے.  ساتھ ہی بہتے  دریا میں ہمارے بھای بلا خوف و خطر میل ڈیڑھ میل کی تیراکی کرتے اور ہم اونچے چبوترے پہ کھڑے انھیں دیکھا کرتے. میں تو کہتی ہوں زندگی کی طرح تاج محل کا حسن بھی توازن ہی ہے . سفید سنگ مرمر کی  حسین عمارت کے ارد گرد چار قابل دید مینار. بیان کیا کروں . وہاں جا کر دیکھو گے تو سمجھو گے . رمز نے پروف سے پوچھا . انیس سو سینتالیس کی آزادی کے بعدکیا سامراجیت کا خاتمہ ہو گیا تھا ؟ بولے . جب ہم انگریز سے آزاد ہوے تو یہ ایک قدم آگے کی پیش رفت ضرور تھی لیکن بدقسمتی سے کہیں کم کہیں زیادہ اس خطّے کے ملکوں میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار کو ہر صورت اپنے ہاتھ میں رکھنے کی سامراجی عادت اپنا لی کیونکہ برطانوی نظام کی جڑیں بہت گہری تھیں . آج بھی ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں میں رائج حکم ، ہدایات اور عملداری کی زبان اور طریقہ کار برطانوی نظام کے ما تحت ہے . انھوں نے انگریزی اور مقامی زبان کو ملا کر ایک ایسی فوجی زبان اور ذہنیت تشکیل دی تھی جس کی حکمرانی آج تک قائم ہے۔ سترہ سو اٹھاون میں قائم ہوئی مدراس رجمنٹ اس نظام کا سب سے پہلا قدم تھا.  مدراس رجمنٹ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو بیشتر جنگیں جو اب تک لڑی گئیں ان میں سے اکثریت برطانوی مفادات کی حفاظت  کے لئے تھیں. آج بھی سرحد کے دونوں جانب نوجوان فوجی افسران ان رائج برطانوی روایات کے بارے میں نا پسندیدگی یا منفی جذبات نہیں رکھتے کیونکہ وہ انہیں خالص فوجی روایات سمجھتے ہیں.   تو گویا آج بھی وہ تاریخ کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے برطانوی طرز کی مقامی سامراجی ذہنیت کے آلہ کار بنے ہوے ہیں اور اپنے ہی معصوم عوام پر ظلم سے بھرپور حاکمانہ اختیار کو درست سمجھتے ہیں . سوفی کیک کا ٹکڑا اٹھاتے ہوے بولی.  اخلاقی جواز کے بغیر حکمرانی کیسی؟ پروف بولے . پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے زیر تسلط علاقوں میں بسنے والے فوجیوں نے دنیا بھر میں برطانوی مفادات کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں دی تھیں. آخر کیوں ؟ کیا ان کے پاس برٹش راج کے مفادات کی حفاظت کا کوئی اخلاقی جواز موجود تھا ؟ یہ کڑوا سچ ہے  کے انہوں نے کرائے کے سپاہی کی حیثیت سے یہ خدمات سرانجام دیں . دولت ، جاگیر اور خطابات کے لئے یہ جنگ لڑی . سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا آج بھی اس خطے کی فوجیں برٹش راج کی تلخ یادوں کو زندہ کیے ہوئے ہیں؟ کیا وہ سامراجی طاقت بن کر اپنے ہی عوام پر اپنی مرضی اور اپنے مفادات کا تحفظ تھوپنا چاہتے ہیں؟ حالاں کہ آزادی کے بعد ان کی سوچ اور طرز عمل میں عوام کے مفادات کا خیال  اولین ہونا چاہیے تھا . یہ ایک المیہ ہے کہ آزادی سے پہلے فوج برٹش امپیریلزم  کی دست راست تھی اور آزادی کے بعد انہوں نے ایک مقامی امپیریلزم تخلیق کر لیا اور خود انگریز کی جگہ مفاد پرست اشرافیہ کے ساتھ مل کر حکمرانی کے منصب پر بیٹھ گئے ۔ آج کے نوجوان فوجی افسر اپنے سینئر افسران کی دیکھا دیکھی اختیار اور مفادات کو  جو انگریز سامراج نے انہیں ظلم کرنے پر  بطور انعام عطا کئے تھے ، اپنا جائز حق تسلیم کرتے ہیں —– جاری ہے ،  ویلیوورسٹی ، شارق علی

Leave a Reply

Your email address will not be published.