غصّے پر قابو ، فکر انگیز انشے Anger management, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Anger is a positive emotion if used in a controlled manner in the right direction at the right time. Uncontrolled anger can become a serious health and social issue

غصّے پر قابو ، فکر انگیز انشے، شارق علی
ہم سب جانتے ہیں کہ غصہ حرام ہوتا ہے لیکن اس پر قابو رکھنا ہم میں سے کسی کے لئے بھی آسان نہیں.  روز مرہ کی زندگی میں اکثر ایسے مقام آتے ہیں جہاں غصّہ ایک فطری رد عمل کے طور پر ابھرتا ہے .  مثلاً سڑک پرکسی دوسرے ڈرائیور کی بد عملی یا کسی بچے کا بات ماننے سے مسلسل انکار . ایسی صورت میں غصہ آنا قدرتی بات ہے لیکن اس کا اظہار مناسب موقع  پر اورصحیح انداز میں کرنا بے حد ضروری ہے ۔  غصّہ منفی نتائج کا سبب بنتا ہے جب ہم خود  پر قابو نہ رکھ سکیں اور کسی غلط موقع پر یا مشتعل انداز میں غصّے کا اظہار  کچھ یوں کر بیٹھیں کہ اہم انسانی رشتوں کے حوالے سے ہمیں بھاری قیمت چکانی پڑے . مسلسل غصّہ ہماری صحت کی خرابی کا سبب بھی بن سکتا ہے .   جیسا کہ بزرگ کہتے ہیں پہلے سوچو پھر بولو۔  کوئی بات خاص طور پر غصے میں کوئی بھی بات کہنے سے ذرا پہلے اگرہم توقف سے کام لیں تو ہمیں سوچنے کا موقع ملے گا اور ممکن ہے ہم اس بات کو غیر مناسب سمجھ کر رد کردیں.  غصے کی کیفیت میں توقف نہ صرف ہمیں سوچنے کا موقع دیتا ہے بلکہ سامنے والے کو بھی مناسب طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ جب ہم خود پر قابو پاچکے ہوں تو اپنے غصے کا اظہار ضرورکرنا چاہیے لیکن مہذب انداز میں. مخاطب کو بتانا چاہیے کے ہمارے تحفظات کیا ہیں، ہماری  توقعات کیا ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ دوسرے کے جذبات اور انا پر کوئی سنگین حملہ نہ ہو۔ غصے کا مہذب اظہارتو ضروری ہے لیکن اپنے دل میں کسی قسم کا بغض رکھنا مناسب نہیں ۔ ایسا کرنا خود کو سزا دینا ہے ۔ کڑواہٹ کو اپنے اندر جگہ دینا خود پرکیا جانیوالا ظلم ہے . یہ بات عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ صحتمند غذا  کا استعمال اور باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں۔ وہ اپنے تناو اور غصے کو بہتر طور پر قابو میں رکھ سکتے ہیں۔  کوئی ہلکا پھلکا کھیل یا محض تیز قدموں کی چہل قدمی اس سلسلے میں کارآمد ہو سکتی ہے .  اس بات کی نشاندہی تو آسان ہے کے ہمیں کونسی بات غصّہ دلاتی ہے . اگر بچہ اپنا کمرہ صاف نہیں رکھتا یا دروازہ زور سے بند کرتاہے یا رات کے کھانے میں ہمیشہ تاخیر ہوجاتی ہے. لیکن ذرا گہرائی میں جا کر بات کی تہہ تک پوھونچنا اور بنیادی مسلہ حل کرنا ضروری ہے نہ کہ بار بار غصّہ کیے چلے جانا . غصے کے اظہار کا ایک بہتر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم استعمال کیے ہوئے جملوں میں ’’میں‘‘ اور ’’مجھے ‘‘ کے الفاظ زیادہ استعمال کریں اور ان الفاظ کے ساتھ مخاطب کے احترام اور اس کے جذبات کا خیال رکھیں۔ مثلاً یہ کہ مجھے یہ بات غصہ دلاتی ہے کہ کھانا کھانے کے بعد ہم ٹیبل کو صاف کرنے اور پلیٹیں دھونے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔  بجائے اس کے کہ تم میرے ساتھ کبھی کام میں ہاتھ نہیں بٹاتے اور مجھے ہر کام تنہا کرنا پڑتا ہے.  گویا  مسئلے کی جانب نشان دہی کرتے ہوے دوسرے شخص کی انا اور اس کے جذبات کو اس بیان سے الگ رکھنا بہتر نتائج پیدا کرتا ہے۔   غصہ پیدا کرنے والی صورت حال ہمیں سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے اور ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ ظرافت اور حسِ مزاح کا استعمال طنز سے کہیں بہتر ہے۔ طنزیہ گفتگو سے بہتر نتائج حاصل نہیں ہوتے ۔ بہت سے لوگ یکدم اشتعال میں آجانے کی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں ۔ ایسی صورتحال کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ایسے میں بالکل خاموشی اختیار کر لینی چاہیے . اندرونی تنائو کو ختم کرنے کے لیے گہری سانس لینا یا اندر ہی اندر خود کو پرسکون رہنے کی تلقین کرنا کارآمد ہو سکتا ہے۔  ایسی صورت حال سے علحدہ ہو کر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ و بچار کرنا بہت مفید ہوتا ہے تاکہ وقتی اشتعال سے باہر  نکلا جا سکے .  ہم میں سے بیشتر لوگ تو ان تجاویز کی مدد سے اپنے غصے پر قابو پاسکتے ہیں ۔ لیکن اگر غصّہ آپ کے لئے ایک  سنگین مسلہ ہے اس تو اس بات میں بھی  کوئی حرج نہیں کہ کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کر لیا جاے . اپنی صحت اور اپنی خوشیوں کا خیال رکھیے ۔ آپ سے اجازت—– ویلیوورسٹی ، شارق علی

Leave a Reply

Your email address will not be published.