سورج مکھی ، تیسرا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Sunflower By Van Gogh, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 3, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

The vitality of Van Gogh’s work reminds his sad story

سورج مکھی ، تیسرا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی
 سخیفول ائیرپورٹ میں چمکتی دمکتی دکانوں کے بیچ کئی رستوران اور فاسٹ فوڈ آوٹ لٹ موجود ہیں لیکن بھوک نہ آپ کو ہے نہ مجھے شاید ہم دونوں ہی ہوٹل پوھنچنے کی جلدی میں ہیں .  ایئرپورٹ کے لمبے کوریڈور سے گزر کر ہم مرکزی دروازے سے باہر آئے تو ٹیکسیوں کی لمبی قطار ہماری منتظر تھی . ایک شاندار کالے رنگ کی چمکتی مرسڈیز ٹیکسی کے کالے سوٹ پہنے لمبے تڑنگے ڈرائیور نے آگے بڑھ کر ہمارا سامان تھام لیا . یہ  سمجھنے  کا موقع بھی نہ مل سکا کہ آخر اس قدر شاندار استقبال کیوں اور عام ٹیکسی کی قطار تو ذرا آگے دوسری جانب ہے  . بہر حال سامان رکھا جا چکا ہے اور اب ہم اس ضرورت سے زیادہ بڑی  اور شاندار ٹیکسی میں بیٹھے ہوف ڈورپ میں واقعے میریٹ ہوٹل کی جانب رواں دواں ہیں . اردگرد کا نظارہ قابل دید ہے . دور تک نظر آتے میدانی سبزہ زار اور ان کے ایک جانب بہتی سیدھی نہر. جدید سڑکوں پر دوڑتا مہذب ٹریفک اور کناروں پر بنی شاندار اور جدید عمارتیں جو انگلینڈ کی نسبتاً پرانی تاریخی عمارتوں سے کم ازکم پہلی نظر میں زیادہ بھلی محسوس ہوتی ہیں . دس یا پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد ٹیکسی ہوٹل کے مین گیٹ کے سامنے جا کھڑی ہوئی . پر فضا ہرے بھرے ماحول میں کوئ دو سو کمروں والا بارعب ہوٹل.  ڈرائیور  نے سامان باہر نکالا اور ٹیکسی کا بل پیش کیا تو اندازہ ہوا کہ لگژری ٹیکسی میں بیٹھنا کتنی بڑی غلطی تھی . بادل ناخواستہ بل کی ادائیگی کرنے کے بعد ہوٹل کا گھومتا مرکزی دروازہ دھکیل کر سامان کھینچتے ہوے سیاحوں کی رونق لئے لابی سے گزر کر ریسپشن پر جا پوھنچے .بائیں جانب شیشے کی دیوار سے جھانکتا شاندار رسٹورنٹ اور بار اور اس میں جاری چہل پہل صاف دکھائی دے رہی تھی . ایک کونے میں بلیرڈ کھیلتے خوش لباس مغربی سیاحوں کی خوش گوار چیخ پکار . قطار ذرا لمبی ہے . دائیں دیوار پر لگی ونسنٹ وان گوگ کی مشہور پینٹنگ سورج مکھی کی یہ تصویر بھی کیا خوب ہے . ایک نظر دیکھنے میں متاثر نہیں کرتی . غور سے دیکھیے تو  سورج مکھی کے چودہ پھولوں میں سے ہر ایک کا انفرادی اور مختلف فنکارانہ وجود وان گوگ کے کمال فن پر قائل کر لیتا ہے. کیا زندگی تھی اس کی . زندہ رہا تو گمنام اور بیحد دکھی . اور آج دنیا کا بیحد جانا مانا اور کامیاب مصور . اپنے انفرادی انداز میں بے مثال . دو ہزار سے زیادہ فن پاروں کا خالق .  پیدا تو وہ یہیں ہالینڈ میں ہوا تھا لیکن اس نے بیشتر یورپ کی آرٹ گیلریوں میں بہت سے عظیم فنکاروں کا کام دیکھا . وہ روز مرہ کی عکاسی کو کمال فن سمجھتا تھا .  دماغی بیماری اور شدید اداسی سے چور وہ اپنی اندرونی کیفیات کو کینوس پر اتارنے میں مصروف رہا . پھر اس تنہائی اور اداسی نے اسے صرف سینتیس سال کی عمر میں خود اپنے ہاتھوں اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا . ریسپشنسٹ نے متوجہ کیا تو میں خیالوں  سے باھر آیا . فون سکرین پر بکنگ لیٹر دکھا کر کمرے  کی الیکٹرونک چابیاں حاصل کیں  اور کشادہ لفٹ میں سامان سمیت  داخل ہو کر دوسری منزل کا بٹن دبایا ……………… جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.