جذبات پر قابو ، فکر انگیز انشے Emotional Control, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Controlling emotions is the key skill to maintain our relationships and happiness. Question is how?

جذبات پر قابو ، فکر انگیز انشے ،  شارق علی
جذبات ہماری زندگی میں انتہائی اہم ہیں لیکن بعض اوقات جذبات کی رو میں بہہ جانا ہمارے لیے تکلیف دہ نتائج پیدا کر سکتا ہے ۔ یہ بھی سچ  ہے کہ جذبات  ہماری سوچ ، ارادے اور عمل یعنی ذہن کے سمجھدار حصوں پراثر انداز ہونے کی بھرپور طاقت رکھتے ہیں ۔  یہ فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ اثر ہمیشہ مثبت ہی ہو.  ظاہر ہے کہ غصے اور خوش فہمی میں کیے گئے فیصلے دانشمندانہ نہیں ہوں گے ۔ بہتر زندگی گزارنے کے لئے جذبات پر قابو پانا انتہائی اہم ہے.  قابو پانے سے میری مراد یہ نہیں کہ ہم خوش ہونے ، ہنسنے ، مسکرانے اور غصے کے جائز اظہار یا محبت کرنے سے گریز کریں.  بلکہ اس سے میری مراد ہے کہ جذبات کو موقع محل کے حساب سے اہمیت دینا اور ایسے منفی جذبات پر قابو پانا جو ہمیں غلط فیصلے کی جانب لے جا سکتے ہیں. سوال یہ ہے کہ منفی جذبات پر یا غیر مناسب اوقات میں جذبات کے اظہار پر کس طرح قابو پایا جاے ؟ ہر ایکشن کا ایک ری ایکشن ہوتا ہے. کائنات کی دوسری تمام چیزوں کے لئے یہ میکانیکی اصول درست ہے.  لیکن ایک انسان ہونے کی حیثیت سے ہمیں فوری ری ایکشن سے پرہیز کرنا چاہیے.  کسی تکلیف دہ بات کا فوری جواب ظاہر ہے کہ منفی جذبات لیے ہوئے ہو گا.  کیوں نہ ایک دانشمندانہ وقفہ استعمال کیا جا ے ۔ ایک گہرا سانس لے کراپنے اندر اٹھنے والے منفی جذبات پر ایک نظر ڈالی جاے اور دل کی دھڑکن کو نارمل ہونے دیا جاے. اور پھر اپنی ذہنی کیفیت کو پُرسکون بنا کر اُس عمل کا ردعمل دیا جاے . اگر ہم اس عمل اور رد عمل کے درمیانی وقفہ کو دانشمندی سے استعمال کرنا سیکھ جائیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہو گی ۔ دوسری تجویز ذراذاتی نوعیت کی ہے لیکن ممکن ہے وہ آپ کے لیے بھی کار آمد ہو.  کسی تکلیف دہ یا مشکل صورتحال میں صرف اپنے ذہن پر زور دینے کے بجائے اپنے دل میں اپنے عقیدے کے مطابق مالک حقیقی سے ذاتی تعلق کے حوالے سے مددگاری طلب کیجیے ۔  تیسری تجویز یہ کہ اپنے دل میں اٹھنے والے تمام جذبات خاص طور پر منفی جذبات کے صحت مند اظہار کا کوئی نہ کوئی طریقہ ضرور ڈھونڈیئے۔ منفی جذبات دل میں رکھنا بالکل مناسب نہیں ۔ کسی پُر اعتماد دوست کو فون کر لیجیے . اگر یہ مناسب نہیں تو آپ اپنی ڈائری میں اپنے جذبات کو درج کر سکتے ہیں.  بہت سے لوگ جسمانی مشقت کو منفی جذبات کے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں بعض لوگ پُرسکون دعا اور عبادت میں سکون ڈھونڈلیتے ہیں ۔ کوئی نہ کوئی طریقہ آپ کے پاس بھی ہونا چاہیے ۔ چاہے وہ لمبی ٹہل ہی کیوں نہ ہو. بہتر ہو گا کہ زندگی کے اُسی مخصوص منفی حصے پر توجہ مرکوز نہ رکھیے بلکہ مکمل تصویر کو اور پوری صورت حال کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کیجیے۔  زندگی کے بڑے مقصد کو ذہن میں رکھیے ۔  اگر آپ ایسا کریں گے تو بہت سارے منفی جذبات آپ کو غیر اہم محسوس ہوں گے ۔  اپنے منفی جذبات کے محرک کو پہچاننا اور اُسے معاف کرنا سیکھیے ۔ محرک سے میری مراد ہے کوئی دوست ، خاندان کا کوئی فرد یا آپ کا ساتھی کارکن جو اپنی باتوں سے یا اپنے عمل سے آپ میں شدید منفی جذبات جیسے غصہ یا مایوسی پیدا کرتے ہیں ۔  ایک بار اُس محرک کو نظر بھر کم دیکھ لینے اور اُسے دل سے معاف کردینے کے بعد غصہ ، بغض، جلن ، یا  حسد اُن کے ساتھ ہی آپ کی ذہنی توجہ سے رُخصت ہو جائے گا ۔ اب آپ سے اجازت——– ویلو ورسٹی ، شارق علی

Leave a Reply

Your email address will not be published.