اچھی زندگی ، فکرانگیز انشے Good life, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Socrates was the first one who pointed out the importance and gave us a philosophical description of the good life. It is a journey of personal reflection and values clarification

اچھی زندگی ، فکرانگیز انشے ، شارق علی
انسانی تاریخ میں بہت سے فلسفیوں اور مصلحین نے اپنے طور پر اچھی زندگی کی وضاحت کی ہے اور یہ کسی حد تک ہمارے لئے فائدہ مند بھی ہے. لیکن کیونکہ زندگی ہر انسان کا انفرادی سفر ہے اس لئے میرے خیال میں اچھی زندگی کی وضاحت ذاتی اقدار کی دریافت سے شروع ہوتی ہے . یہ  محض والدین کی ہدایات پر بلا سوچے سمجھے عمل پیرا ہونے سے حاصل نہیں ہوتی . نہ ہی معاشرے میں قبولیت اور احترام کی شدید آرزو کے تعاقب میں اندھی سماجی فرمانبرداری سے . بلکہ یہ کٹھن راستہ ذاتی سوچ و بچار سے ہو کر گزرتا ہے. ایسی زندگی صرف دکھتی نہیں بلکہ محسوس ہوتی ہے . ہمارے دل و ذہن کو وہ ہی اچھا محسوس ہو گا جو ہماری اقدار سے ہم آہنگ ہو . ممکن ہے جن قدروں پر ہم یقین رکھتے ہوں وہ معاشرے میں رائج تصورات سے مختلف ہوں بلکہ بعض اوقات متصادم بھی ۔  ہوسکتا ہے کہ معاشرہ اور دوسرے لوگ ہمارے ذاتی تصور کو یکسر غلط کہیں، اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں۔ اس صورت میں یہ بات تو ٹھیک ہے کہ ہمیں اپنی اقدارپر دوبارہ غور و فکر کرنا چاہیے۔ اس پرایک بار پھر  تنقیدی نگاہ ڈالنی چاہیے۔ لیکن اگر اچھی زندگی کے بارے میں ہماراذاتی عقیدہ پھر بھی درست محسوس ہوتا ہو تو پھر ہمیں دوسروں کی زیادہ پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ کسی بھی عمل کے اچھے یا بُرے ہونے کا رشتہ اس کے انجام سے جُڑا ہوتا ہے۔ ہم کسی ایسے عمل کو اچھا نہیں کہہ سکتے کہ جو خود ہمارے لیے یا دوسروں کے لیے بُرے نتائج حاصل کرے۔   اچھا راستہ وہ ہے جس کی منزل اجتماعی فلاح ہو۔  اگر ہم کسی ٹیم کا حصہ ہیں اور ہماری  توجہ انفرادی کامیابی پر مرکوز ہے اور  یہ بات ٹیم کی کامیابی سے ہم آہنگ نہیں تو اجتماعی فلاح کے حوالے سے یہ بات  اچھی نہیں ہو گی . توازن اور اچھائی میں گہرا تعلق ہے۔  شدت پسندی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو محدود کردیتی ہے ۔  توازن کا راستہ سب سے بہتر راستہ ہے.  مثال کے طور پر انکساری بہت اچھی چیز ہے لیکن اگر آپ اس قدر منکسر المزاج ہیں کہ ہر آدمی آپ کو پیروں تلے روند کر گزر سکتا ہے تو یقینا یہ کوئی اچھی بات نہیں ، اس کے اثرات آپ کی جسمانی اور جذباتی صحت پر پڑیں گے۔  ذمے دار ہونا اچھی بات ہے لیکن اگر آپ کی تمام زندگی اپنی ذمے داریاں نبھاتے گزر گئی  اور آپ خود اپنا خیال نہ  رکھ سکے اور نہ ہی اُن غریب ضرورتمندوں کا کہ جو آپ کا خاندان تو نہیں تھے مگر آپ کی مدد کے طلب گار اور حقدار ضرورتھے ۔ تو پھر ایسا ذمے دار رویہ کوئی اچھی بات نہیں ۔  مثبت طرزِ فکر اچھی بات ہے۔ لیکن بار بار مثبت طرزِ فکر کا ذکر کرکے وہی غلطیاں دوہرانا اچھی بات نہیں۔   اچھا انسان دوسروں کے رویوں سے جلدی بد گمان نہیں ہوتا۔ وہ انھیں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے عدم تشدد اور بات چیت کے ذریعے سے، کھلے دل و دماغ سے اور صورتِ حال کو پوری طرح سمجھ لینے کے بعد وہ کوئی فیصلہ کرتا ہے۔  اچھی زندگی گزار نا اہم ہے اس لئے کہ یہی فطرت سے ہم آہنگ اوردرست راستہ ہے.  ہماری روح اور ہمارا جسم اچھی زندگی ہی سے پھلتا پھولتا ہے۔  مہربانی، محبت ، مثبت طرزِ فکر، ایک دوسرے کا احترام اور اجتماعی فلاح کو اہمیت دینا ایسی زندگی کی علامتیں ہیں.  اچھی زندگی یہ ہے کہ ہم مسلسل سیکھتے رہیں.  ایسی صورت حال سے بھی جو یا تو بہت مبہم تھی یا بہت پیچیدہ ،  اپنی غلطیوں سے ،  اردگرد کے لوگوں سے،  اپنی تاریخ سے، حالاتِ حاضرہ سے، بدلتی ہوئی صورتِ حال سے . اچھی زندگی یہ ہے کہ دوسروں کی مدد کی جاے اور اگر وہ راضی ہوں تو اُن کا ہاتھ پکڑ کر درست سمت کی طرف اُنہیں متوجہ کیا جاے —– ویلیوورسٹی، شارق علی

Leave a Reply

Your email address will not be published.