اچھوتا خیال، فکر انگیز انشے Creative Idea, THOUGHT-PROVOKING INSHAY

Creativity is the ability to perceive the world in new ways, to discover hidden patterns and to find connections between seemingly unrelated phenomena in order to generate solutions. Here are a few suggestions to get creative ideas

 اچھوتا خیال، فکر انگیز انشے، شارق علی
کسی اچھوتے خیال تک پہنچنے کے لیے ہمیں منفرد طرزِ فکر اور بھرپور تخلیقی جوش کی ضرورت ہوتی ہے.  اگر ہم اظہار رائے، مثبت بحث و مباحثہ، بھرپور غور و فکر اور اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو تحریر کرلینے کے عادی ہوں تو اچھوتے خیال تک پوھنچنے کا امکان نسبتاً زیادہ ہے. تخلیقی جوش سے میری مراد ہے نئے خیالات کے لیے خوش آمدیدگی ۔ ایسے لوگ اپنے شعبے میں معتبر اور قابل لوگوں کے لیکچر سننے، خود اپنے ذاتی مشاہدات پر غور و فکر کرنے، حتیٰ کے اپنے آرام، صحت اور غذا کا خیال رکھنے میں بھی پر جوش ہوتے ہیں .  بعض لوگ کسی اچھوتے خیال کے تعاقب میں ہوں تو قلم اُٹھا کر صفحے پر مسلسل لکھنا شروع کردیتے ہیں ۔ نفسیات دانوں کے خیال میں اگر آپ کا ذہن قلم کے ذریعے سے براہِ راست صفحے پر اپنی سوچ درج کرنے لگے تو اس بات کا امکان ہوتا  ہے کہ کوئی اچھوتا حل یا خیال آپ کے لاشعور سے نکل کر آپ کے بالکل سامنے آجائے۔ تو گویا بنا سوچی سمجھی تحریر ایک طرح کی تکنیک ہے اپنے لاشعور تک پوھنچنے کی۔  ایک دوسرا طریقہ جو بعض ماہرین کی رائے میں کارآمد ہے وہ یہ کہ ایک صفحے کے بیچ میں آپ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اُسے درج کرلیجیے اور اس کے ارد گرد اپنے ذہن میں آنے والی ہر قسم کی سوچیں چھوٹے چھوٹے دائروں میں نکتہ وار درج کرتے  چلے جائیے.  پھر یہ الگ الگ شاخیں آپس میں جڑنا شروع ہوجائیں گی اور ممکن ہے کے مرکزی مسلے کے حل کے  لیے آپ کو وہ اچھوتا خیال میسر آجائے جس کی آپ کو تلاش ہے۔  بعض ماہرین ایک اور راستہ اختیار کرتے ہیں. اُسے کردار کی تبدیلی یا رول سٹورمنگ کہا جاتا ہے . آپ جس مقصد، موضوع یا مسلے پر غور و فکر کر رہے ہیں اسے سامنے رکھتے ہوئے خود کو اپنے ذہن میں کسی مختلف کردار میں تبدیل کرلیں.  یعنی اپنے کسی دوست، ساتھی یا اپنے والد یا والدہ وغیرہ کے کردار میں . پھر اس نئے کردار میں ڈھل کر نے سرے سے غور و فکر کا آغاز کیجئے.  آپ کو سوچنے کا ایک نیا انداز میسر  آے گا جو ہو سکتا ہے کہ آپ کو کسی حل تک پوھنچا دے ۔ آپ کوئی ایسا کردار بھی بن سکتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے بہت ذہین تھا۔ مثلاً آئن اسٹائن.  پھر اس کے ذہن سے اس مسلے کے حل کو تلا ش کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے کامیاب ثابت ہو . گویا اچھوتے خیال تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذہنی حد بندیوں کو توڑ سکیں . مسئلے کو سامنے رکھ  ک ذرا دیر کے لیے تصور کر سکیں کے ہم سب کچھ کرسکتے ہیں۔ صرف ایسا تصور کر لینے سے کچھ ایسے نئے امکانات نظر آنا شروع ہوںگے کہ جو کارآمد حل کی جانب مثبت پیش رفت ثابت ہوں گے ۔  تخلیقی سوچ کے لیے ہم خیال لوگوں کے ساتھ اظہارِ رائے کرنا، اُن کی رائے کو سُننا اور اُن کے مشاہدات اور تجربوں سے سیکھنا بہت ضروری ہے، ایسے لوگوں سے سیکھنے کی کوشش کرنا چاہیے جو عام ڈگر سے ہٹ کر زندگی گزارتے ہیں.  اور خود اپنی زندگی میں بھی اکثر و بیشتر خود کو روز مرہ کی قید سے آزاد کر لینا چاہیے . ایک جیسی مصروفیات کے بجائے نئی جگہوں پر جانا، نئے لوگوں سے ملنا، نئی کتابیں پڑھنا، نئے موضوعات پر غور و فکر کرنا چاہیے. ایسا کرنا ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو  نیا جوش فراہم کرے گا. ہم خوش قسمت ہیں کے معلوماتی انقلاب کے اس ولولہ انگیز دور میں جی رہے ہیں جس میں انٹرنیٹ اوریو ٹیوب پردُنیا کے ماہر ترین لوگوں سے سیکھنا ممکن ہے . ہم ان کی سوچ اور کام سے واقف ہو سکتے ہیں. ٹیڈ ٹاکس پر  دُنیا کی  بڑی بڑی یونیورسٹیز میں ہونے والی تحقیق سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں . عالمی شہرت یافتہ پروفیسرز کے لیکچرز سُن سکتے ہیں۔ مسلسل سیکھنا ہماری تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے اور اچھوتے خیال تک پوھنچنے کی بنیادی شرط  ہے . ان چند گزارشات کے بعد آپ سے اجازت. اپنا خیال رکھیے گا۔
ویلیوورسٹی،، شارق علی

Leave a Reply

Your email address will not be published.